اس وقت ملک بد ترین مہنگائی سے دوچار ہے، ایسے میں مہنگائی کے ستائے کراچی کے شہریوں نے ہلکے پھلکے انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
اس حوالے سے کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرنے والوں نے دلچسپ جملوں پر مشتمل
پلے کارڈز کے ذریعے جہاں ایک طرف حکومت کو حیا دلانے کی کوشش کی وہیں انہوں نے ہوش ربا مہنگائی کے باوجود گھروں میں بیٹھے شہریوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔

یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ مظاہرین کے پلے کارڈز پر اس قدر دلچسپ جملے تحریر تھے کہ وہ آنے جانے والوں کو رکنے پر مجبور کرتے رہے۔
مہنگی سگریٹ سے پریشان ایک شہری کے پلے کارڈ پر تحریر تھا کہ ’ظالموں اب تو گولڈ لیف لینے کے پیسے بھی نہیں‘۔
جب کہ ڈالر کی بڑھتی قدر سے نالاں شہری کے پلے کارڈ پر درج تھا ’ڈالر اور ڈار کا بہت یارانہ ہے‘۔

میاں صاحب کے پلیٹلیٹس کو لیکر ایک خاتون نے پیغام پہنچانے کی کوشش کی کہ ’میاں صاحب آپ کے پلیٹلیٹس کا پتا نہیں مگر عوام کے پلیٹلیٹس ضرور کم ہوگئے‘۔
وزیر اعظم صاحب کے مہنگے کپڑوں پر گہری نظر رکھنے والے ایک شہری نے لکھا کہ’ وزیراعظم صاحب مہنگائی کم کرنے کے لیے آپ اپنے کپڑے کب بیچیں گے‘۔

احتجاج میں شامل ایک شہری نے کے پلے کارڈ پر درج تھا ’ کرسی ہے تمہارا جنازہ تو نہیں کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے‘
اس موقع پر احتجاج کرنے والے شہریوں نے بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ساتھ دائرہ بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔














