فواد چوہدری کی اہلیہ حبا چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حبا چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں بتایا ہے کہ فواد چوہدری کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہیں نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے۔
Fawad Arrested and taken to unknown place.
— Hiba Fawad Chaudhary (@HibaFawadPk) November 4, 2023
حبا چوہدری نے بتایا کہ فواد چوہدری کو اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔انہیں سادہ لباس میں ملبوس افراد اور پولیس نے گرفتار کیا جبکہ ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا کہ فواد کو کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
فواد چوہدری کے بھائی ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے ایکس پوسٹ میں تصدیق کی کہ میرے بھائی چوہدری فواد کو میرے اسلام آباد والے گھر سے ناشتہ کرتے ہوئے کچھ باوردی اہلکاروں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کے ہمراہ اغوا کر لیا ہے۔ میرے بار بار اصرار کے باوجود انہوں نے کوئی وارنٹ گرفتاری یا حکم نہیں دکھایا۔ مجھے ان کی سلامتی سے متعلق شدید خدشات ہیں۔
میرے بھائی چوہدری فواد @fawadchaudhry کو میرے اسلامآباد والے گھر سے ناشتے کرتے ہوئے کچھ باوردی اہلکاروں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کے ہمراہ اغوا کر لیا ہے۔میرے بار بار اصرار کے باوجود انہوں نے کوئی وارنٹ گرفتاری یا حکم نہیں دکھایا۔ مجھے انکی سلامتی سے متعلق شدید خدشات ہیں-
— Faisal Hussain (@faisal_fareed) November 4, 2023
جب فواد چوہدری نے گرفتاری اور رہائی کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 24 مئی 2023 کو پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرلی تھیں اور کہا تھا کہ میں فی الحال سیاست سے بریک لے رہا ہوں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ٹوئیٹ میں انھوں نے لکھا تھا کہ میں نے 9 مئی کو ہونے والے واقعات کی پہلے ہی مذمت کی تھی اور اب سیاست سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں پارٹی عہدوں سے مستعفی ہو رہا ہوں۔
Ref. My earlier statement where I unequivocally condemned 9th May incidents, I have decided to take a break from politics, therefore, I have resigned from party position and parting ways from Imran Khan
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) May 24, 2023
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد فواد چوہدری کو 10 مئی 2023 کو سپریم کورٹ کے باہر سے ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے بعد منگل 16 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
فواد چوہدری نے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ 9 مئی قابل مذمت ہے اس کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ پاک فوج ہے تو ہم ہیں۔
یاد رہے کہ فواد چوہدری 16 مئی 2023 کو اپنی رہائی کے بعد سے میڈیا سے مکمل غائب تھے۔ رہائی کے بعد 24 مئی 2023 کو پارٹی چھوڑنے کے اعلان تک ان کی کوئی ٹوئیٹ یا بیان سامنے نہیں آیا تھا۔














