رواں مالی سال کے دوران خوردنی تیل کی درآمد میں کمی واقع ہوئی، ادارہ شماریات

ہفتہ 25 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک کی خوردنی تیل کی درآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں سالانہ بنیاد پر 33.08 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2023 تک 86 ہزار 335 میٹرک ٹن سویا بین آئل کی درآمد پر 74.766 ملین ڈالر زرمبادلہ صرف ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 33.08 فیصد کم ہے۔

پاکستان بیورو برائے شماریات (ادارہ شماریات) کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 77 ہزار 905 میٹرک ٹن سویا بین آئل کی درآمد پر 1011.732 ملین ڈالر زرمبادلہ صرف ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال اکتوبر میں 16 ہزار 510 میٹرک ٹن سویا بین آئل درآمد کیا گیا جو ستمبر کے مقابلے میں 49 فیصد کم ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سا ل کے پہلے 4 ماہ میں 1.016 ملین ٹن پام آئل کی درآمد پر 964.29 ملین ڈالر زرمبادلہ خرچ ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 31.45 فیصد کم ہے۔

واضح رہے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9 لاکھ 48 ہزار 457 میٹرک ٹن پام آئل کی درآمد پر 1.406 ارب ڈالر زرمبادلہ صرف ہوا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا