اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ کی اپنے پیاروں کی عدم بازیابی پر وزیراعظم نیتن یاہو پر کڑی تنقید اور نعرے بازی

منگل 26 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے یرغمالیوں کے اہلخانہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یرغمالیوں کو فوری واپس لائیں لیکن یاہو مزید وقت مانگ رہے ہیں۔

گزشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ عسکری دباؤ کے بغیر اسرائیل، غزہ میں قید بقیہ شہریوں کو آزاد نہیں کرا سکے گا۔ اسرائیلی افواج کو حماس پر مزید فوجی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تو اہلخانہ نے اس کی شدید مذمت کی اور گیلری سے نعرے بھی لگائے۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 20 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ طویل جنگ ہو گی جس کے جلد خاتمے کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوجی دباؤ نہ ہوتا تو ہم اب چھڑائے گئے 100 سے زائد قیدیوں کو آزاد نہیں کرا پاتے اور بقیہ قیدیوں کو بھی فوجی طاقت کے بغیر آزاد نہیں کرا سکیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ میں ابھی غزہ سے واپس لوٹا ہوں، ہم رکنے نہیں والے، ہم لڑتے رہیں گے اور آنے والے دنوں میں اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک طویل جنگ ہوگی جو جلد ختم ہونے والی نہیں۔

اس موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی جب خطاب سننے کے لیے موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ نے نیتن یاہو سے فوری طور پر قیدیوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ اس پر نیتن یاہو نے کہا کہ ہم یرغمال بنائے افراد کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں لیکن ہمیں وقت درکار ہے۔

اس پر یرغمال افراد کے اہلخانہ نے کہا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے اور یرغمال افراد کی رہائی کے لیے ’ابھی، ابھی، ابھی‘ کے نعرے لگائے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ میں نے چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت کریں جبکہ میری بیوی سارہ نے بھی براہ راست پوپ سے اپیل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم رکنے نہیں والے، ہم فتح تک رکنے نہیں والے کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور سرزمین یا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ان کے اس جواب پر یرغمال افراد کے اہلخانہ نے ایک مرتبہ پھر نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی کی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اغوا کیے گئے اسرائیلی باشندوں میں سے 129 اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔ اسرائیل کی 7 اکتوبر سے مسلسل جاری وحشیانہ بمباری میں اب تک 20 ہزار 674 سے زائد فلسطینی باشندے شہید اور 52 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاپتا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ویڈیو

لائیوملک کی آبادی 4 گنا بڑھ گئی، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کو کرنا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘