ایران کے علاقے سراوان میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف جھڑپ کے دوران فتنہ الہندوستان بی ایل اے کے سینیئر کمانڈر ڈاکٹر عبدالرشید عرف ’نوخاب‘ کی ہلاکت نے سرحد پار دہشتگردی کو سہارا دینے والے غیر ملکی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ افغان سر زمین سے ہونے والی دہشتگردی، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے، پاکستان
ذرائع کے مطابق سینیئر بی ایل اے کمانڈر نوخاب کی سراوان میں موجودگی اور ہلاکت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ بی ایل اے کا اہم دہشتگرد عناصر ایرانی سرزمین سے چھپ کر کارروائیاں کر رہا تھا۔
نوخاب کی برسوں تک ایران سے سرگرمیاں اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ کس طرح فتنہ الہندوستان بی ایل اے نے ایرانی سرزمین کو اپنے کارندوں کو چھپانے، رابطے برقرار رکھنے اور اپنے دہشتگرد نیٹ ورکس کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کمانڈر ڈاکٹر نصیر کے قریبی ساتھی کے طور پر نوخاب نظیم کے سینیئر دہشتگرد نیٹ ورک کا حصہ تھا اس کی موت بی ایل اے کی قیادت کے ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
مزید پڑھیے: ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا، میڈیکل طالب علم کی کالعدم بی ایل اے میں شمولیت اور ہلاکت
ایران میں بی ایل اے سے منسلک عناصر کا بے نقاب ہونا اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کس طرح ایران پاکستان سرحد کا فائدہ اٹھا کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ، بی ایل اے کے تعاون، غیر ملکی سرپرستی اور سرحد پار سہولت کاری کا یکجا ہونا ایک مربوط دہشتگرد ایکو سسٹم کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔
🚨🚨
BLA’s Secret in Iran Exposed: Terror Commander “Nokab” Killed in Saravan ClashRead more: https://t.co/wMYIsgixfX pic.twitter.com/BjVW7lI19u
— The Khyber Chronicles (@TKCkhyber) September 14, 2026
پاکستان نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشتگردی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ دہشتگرد کمانڈروں، سہولت کاروں اور سپورٹ نیٹ ورکس کو پڑوسی علاقوں سے کام کرنے کی اجازت دی جاتی رہے۔
مزید پڑھیں: زیارت کراس حملہ: ٹی ٹی پی نے کارروائی کی، ذمہ داری بی ایل اے نے کیوں قبول کی؟ باہمی تعاون پر سوالات اٹھ گئے
یہ پیشرفت دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور پڑوسی علاقے کو پاکستان کے خلاف حملوں کو جاری رکھنے کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مضبوط علاقائی کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔














