ہنزہ میں ایک میگاواٹ کا شمسی توانائی کا پلانٹ نصب

ہفتہ 20 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کان کنی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کے ساتھ ساتھ توانائی پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی نے Energy NPAK نامی سولر کمپنی کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہنزہ میں ایک میگاواٹ کا شمسی توانائی کا پلانٹ نصب کردیا ہے۔

ہنزہ سولر پلانٹ خطے میں توانائی کے خسارے کو پورا کرے گا اور وادیوں میں رہنے والوں کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ پبلک پرائیویٹ شراکت داری کا منصوبہ صاف توانائی پیدا کرنے کے ساتھ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لانے کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔

سطح سمندر سے 2,800 میٹر بلندی پر واقع پلانٹ کے 2,300 سے زیادہ سولر پینلز مقامی گھرانوں او ر صنعتوں کے لیے ہر سال 1,600 میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے۔ یہ منصوبہ صاف توانائی پیدا کرے گا، جس سے سالانہ 1,100 میٹرک ٹن کاربن کے مساوی نقصانات سے بچا جاسکے گا۔

حکومت گلگت بلتستان بھی بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے مزید قابل تجدید توانائی کے پروگراموں کا اجراء کرے گی۔ منصوبے کے دوسرے فیز میں 2 میگاواٹ کا سولر پلانٹ رواں برس شروع کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاسکو ختم، ملازمین کے لیے 4.18 ارب روپے کے پیکج کی منظوری

سپریم کورٹ کی جیل اصلاحات کانفرنس کا اعلامیہ جاری، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور سہولیات کے بحران پر تشویش

غزہ کے 80 فیصد سے زیادہ علاقے پر اسرائیل قابض ہوچکا، 73 ہزار فلسطینی شہید ہوئے، رپورٹ جاری

آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

پاکستان کا سیمی کنڈکٹر صنعت میں بڑا قدم، 4.5 ارب روپے کے قومی چپ ڈیزائن پروگرام پر عملدرآمد شروع

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز