افغانستان: ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور ٹریننگ مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آ گئے

اتوار 21 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ٹریننگ مراکز کی موجودگی کے شواہد سامنے آ گئے۔

افغانستان کے صوبے کنڑ میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے ایک مدرسے کی دستار بندی کی تقریب میں شرکت کی ہے۔

یہ تقریب کنڑ میں موجود مدارس، مدرسہ دار الحجرا والجہاد اور جامعہ منبہ الاسلام میں ہوئی۔

تقریب میں دہشت گرد عظمت لالا اور مولوی فقیر بھی موجود تھے۔ اور متعدد افغان رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

ترجمان افغان طالبان کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کوئی ٹھکانے موجود نہیں جبکہ یہ تقریب افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی کا کھلا ثبوت ہے۔

ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے جس کا افغان حکومت کو بخوبی علم ہے۔

اب ضروری ہے کہ افغان عبوری حکومت دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرکے خطے کو دہشت گردی سے پاک کرے۔

ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کی بنیادی وجہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘