ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کے مطابق دنیا بھر میں صحت کی سہولیات کا بڑا مسئلہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹروں، اسپیشلسٹ اور بہترین سرجنز کی محدود تعداد، مہنگی خدمات اور انسانی صلاحیتوں کی حدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیسلا کا انسان نما روبوٹ ’آپٹیمس‘ مستقبل میں انتہائی پیچیدہ طبی اور جراحی کارروائیاں ایسی درستگی کے ساتھ انجام دے سکتا ہے جو انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے ہو۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 100 ملین ڈالرز کے عوض ایلون مسک سے صلح کرلی
ایلون مسک کے مطابق ایکس اے آئی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل ’گروک‘ اس نظام میں تشخیص اور فیصلہ سازی کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے، جو مریض کی طبی تاریخ، علامات اور جسمانی کیفیت سے متعلق حقیقی وقت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے انتہائی ماہر ڈاکٹر کی طرح رہنمائی فراہم کرے گا۔
🚨 ELON MUSK THINKS ROBOTS COULD OUTPERFORM THE WORLD’S BEST SURGEONS IN JUST 3 YEARS.
Musk says Tesla’s Optimus could become better than the best human surgeons by 2029, and do it at scale.
The argument is straightforward:
– Robots don’t get tired
– AI can continuously learn… pic.twitter.com/Zkt0M9VQWn— Cosmos Europa (@CosmosEuropa) August 21, 2026
ایلون مسک نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ آپٹیمس روبوٹ اور گروک مل کر دنیا بھر کے لوگوں کو ’ناقابل یقین طبی سہولیات‘ فراہم کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر روبوٹس کی تیاری سے طبی اخراجات میں ڈرامائی کمی آسکتی ہے اور مستقبل میں جدید اور جان بچانے والا علاج عام آدمی کے لیے مفت یا انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:نیویارک میں گروسری اسٹورز پر لڑائی، ایلون مسک نے ظہران ممدانی کو چور اور جھوٹا کیوں کہا؟
تاہم یہ تصور فی الحال ایک مستقبل کی پیش گوئی ہے اور آپٹیمس یا گروک ابھی ڈاکٹروں کے متبادل کے طور پر دستیاب نہیں۔ ٹیسلا آپٹیمس کی تیاری اور ترقی پر کام کررہی ہے، جبکہ گروک کے طبی شعبے میں ممکنہ استعمالات بھی زیرِ غور ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں ایلون مسک کی پیش گوئی کے مطابق پیشرفت ہوئی تو مستقبل میں یہ ٹیکنالوجیز عالمی صحت کے نظام کا اہم حصہ بن سکتی ہیں۔














