قاسم سوری کو 2018 میں جعلی طریقے سے سیلیکٹ کیا گیا، لشکری رئیسانی

منگل 23 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینئر سیاستدان حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری 2018 میں دھاندلی سے انتخابات جیتے تھے، 2018 میں عوام کا حق چوری کیا گیا جس سے 5 سال قوم کا وقت ضائع کیا گیا۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر سیاستدان حاجی لشکری رئیسانی کے وکیل ریاض احمد نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل نے قاسم سوری کو 2018 میں دوبارہ انتخابات لڑنے کا حکم دیا تھا، قاسم سوری نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، سپریم کورٹ نے قاسم سوری کو اسٹے دے دیا تھا۔

اس موقع پر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ 2018 میں عوام کا حق چوری کیا گیا، 5سال کا وقت ضائع ہوا کیوں کہ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ جعلی طریقے سے قاسم سوری کو سیلیکٹ کیا گیا اور سپریم کورٹ میں ہمارا کیس التواء کا شکار رہا۔

لشکری رئیسانی نے کہا کہ عدالت عوامی مفاد کی خاطر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے، قاسم سوری نے اسٹے آرڈر پر سرکاری وسائل کا استعمال کیا، سپریم کورٹ میں موجود چند لوگ یہ کیس سماعت کے لیے مقرر نہیں کر سکے اور اسٹے آرڈر پر بیٹھے شخص کی وجہ سے آئینی بحران پیدا ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

دورانِ پرواز ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے والا مسافر گرفتار

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سعودی عرب پہنچ گئے

سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

پاکستان اور چین سے مستقل دشمنی مسئلے کا حل نہیں، آر ایس ایس سربراہ

ویڈیو

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟