پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر اور سابق اسپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے 2 مراحل میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی ان کی توقعات کے مطابق رہی اور پارٹی 24 نشستیں حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے جبکہ پونچھ ڈویژن کے انتخابات بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی ہمیں بلیک میل کرنا چاہتی ہے لیکن ہم ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: مظفرآباد کے 2 حلقوں کے نتائج مکمل، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ایک نشست جیتنے میں کامیاب
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے شاہ غلام قادر نے کہاکہ انتخابات کے پہلے 2 مراحل میں ہونے والی کامیابی ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ وہ خود گراؤنڈ پر انتخابی مہم کی نگرانی کر رہے تھے۔
انہوں نے کہاکہ میں چونکہ گراؤنڈ پر کام کرتا ہوں، اس لیے انتخابی نتائج کا اندازہ پہلے ہی ہو گیا تھا۔ صرف مظفرآباد شہر کی نشست پر ہمیں نقصان ہوا، باقی نتائج ہماری توقعات کے مطابق رہے اور اب ہماری 24 نشستیں ہو چکی ہیں۔
پونچھ ہمارا مضبوط ترین سیاسی گڑھ ہے
ایک سوال کے جواب میں شاہ غلام قادر نے کہا کہ پونچھ ڈویژن مسلم لیگ (ن) کا مضبوط ترین سیاسی گڑھ ہے اور تحریک آزادی کشمیر میں بھی اس خطے کے لوگوں کی نمایاں خدمات رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ضلع باغ کی 3 نشستوں پر انتخابات پرامن طریقے سے ہو ہو جائیں گے جبکہ ضلع حویلی کی نشست پر بھی کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہے، البتہ راولاکوٹ اور سدھنوتی کے بعض علاقوں میں صورتحال نسبتاً مختلف ہے، تاہم اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرےگا۔
انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر جن نشستوں کے بارے میں فیصلہ کرےگا، ان پر انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہی حکومت سازی کی مجموعی تصویر مزید واضح ہوگی۔
پونچھ میں حالات بہتر ہونے کی امید ہے
پونچھ ڈویژن میں انتخابات ملتوی ہونے سے متعلق افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے شاہ غلام قادر نے کہا کہ وہاں ایک مخصوص صورتحال ضرور موجود ہے، تاہم سیاست ناممکن کو ممکن بنانے کا نام ہے۔
انہوں نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت بنا کر موجودہ مسائل کو مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی سے حل کر لے گی۔
شاہ غلام قادر نے وزیراعظم فیصل راٹھور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں وہ کہہ رہے تھے کہ میں معاملات سنبھال لوں گا، لیکن پھر پیپلز پارٹی خود ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل گئی۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
شاہ غلام قادر نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے محسوس کیا کہ میدان میں اس کی سیاسی پوزیشن کمزور ہے، اس لیے اس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کی، لیکن آئینی طور پر ایسا ممکن نہیں تھا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن کی جیت مخالفین کو ہضم نہیں ہورہی، عطاتارڑ
انہوں نے مزید کہاکہ اب مظفرآباد، نیلم، ہٹیاں بالا، راولاکوٹ اور باغ سمیت مختلف علاقوں میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں سے زیادہ پیپلز پارٹی کے کارکن دکھائی دیتے ہیں۔
شاہ غلام قادر نے کہاکہ وہ مسلسل یہ کہتے رہے کہ اگر اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو پورا نظام متاثر ہوگا، اور اگر ایک مرتبہ نظام کمزور ہوگیا تو اسے دوبارہ مستحکم کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پیپلز پارٹی انتخابی دھاندلی کا ثبوت پیش کرے
پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے شاہ غلام قادر نے کہاکہ محض الزام لگانا آسان ہے، لیکن اس کے لیے ثبوت بھی پیش کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ وہ خود 6 ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے انہیں بتایا جائے کہ ان کے حلقے میں کہاں دھاندلی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جہاں کامیاب ہوتی ہے وہاں انتخابات کو شفاف قرار دیتی ہے، لیکن جہاں شکست ہوتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگا دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ کرائے جائیں، ندیم افضل چن کا مطالبہ
شاہ غلام قادر نے کہاکہ اگر واقعی دھاندلی ہوئی ہے تو انتخابات کے دن کا کوئی ایک قابل قبول ثبوت سامنے لایا جائے تاکہ اس پر بات کی جا سکے۔
حکومت کی پہلی ترجیح امن، بے روزگاری کا خاتمہ اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگی
شاہ غلام قادر نے کہاکہ اگر مسلم لیگ (ن) حکومت بناتی ہے تو اس کی پہلی ترجیح آزاد کشمیر میں امن و امان کی بحالی، معاشرے میں پیدا ہونے والی نفرت کی فضا کا خاتمہ، نوجوانوں سے مکالمہ اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل کا حل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ نوجوانوں سے بات کرنا ہوگی، ان کی شکایات سننی ہوں گی اور انہیں تاریخی حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کے ساتھ بیٹھیں گے، ان کے تحفظات سنیں گے اور انہیں اصل تاریخی حقائق بتائیں گے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فرضی تاریخ کی بنیاد پر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
شاہ غلام قادر نے کہاکہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے جبکہ گزشتہ کچھ حکومتوں نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر تقرریوں اور دیگر اقدامات کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیے: انتخابات شفاف ہوئے، دھاندلی کے الزامات لگانے والے ثبوت پیش کریں، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے انتخابی شیڈول جاری ہونے کے باوجود آخری وقت میں بھی تقرریوں کے احکامات جاری کیے، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کے منافی تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی، غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ کرے گی اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرے گی۔
مرحلہ وار انتخابات حالات کے باعث ناگزیر تھے
آزاد کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کے فیصلے سے متعلق سوال پر شاہ غلام قادر نے کہا کہ بعض عناصر انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے، اس لیے مرحلہ وار انتخابات کرانے کا فیصلہ ہوا تاکہ ان کی سازش ناکام بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی حکومت میں تھی، انتظامیہ بھی اسی کی تعینات کردہ تھی، جبکہ دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے بعض کارکن بھی انتخابات کے خلاف سرگرم تھے۔
مزید پڑھیں: ’کوئی اور نہیں بس شیر‘، مریم نواز کا آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی پر خوشی کا اظہار
ان کے مطابق ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا تھا جس میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اگر انتخابات ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں تو پورا نظام ہی ختم ہو جائے، حالانکہ جمہوری نظام کا تسلسل سب سے زیادہ اہم ہے۔
بلاول بھٹو کے بیانات پر ردعمل
وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے شاہ غلام قادر نے کہا کہ وہ ان بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی روایت رہی ہے کہ وہ انتخابی نتائج صرف اسی صورت قبول کرتی ہے جب وہ خود کامیاب ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں تو انتخابات شفاف قرار دیے جاتے ہیں، لیکن شکست کی صورت میں دھاندلی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔
وزیراعظم کے امیدوار سے متعلق فیصلہ نواز شریف کریں گے
آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم سے متعلق سوال پر شاہ غلام قادر نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) میں جو بھی امیدوار ہوگا، اس کا فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کریں گے اور تمام ارکان اس فیصلے کو قبول کریں گے۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر: انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کے فیصلے سے سیاسی منظر نامہ تبدیل، کس جماعت کو فائدہ ہوگا؟
انہوں نے کہاکہ نواز شریف کا کوئی ذاتی مفاد نہیں، ان کا مقصد آزاد کشمیر کی ترقی ہے۔ جسے بھی وہ ذمہ داری دیں گے، ہم سب اس فیصلے پر عمل کریں گے۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ اگر پارٹی قیادت انہیں کوئی ذمہ داری سونپتی ہے تو وہ اسے قبول کریں گے، اور اگر فیصلہ کسی اور کے حق میں ہوا تو بھی پارٹی نظم و ضبط کے مطابق اس کا احترام کریں گے۔
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا تقابل حقائق کے منافی ہے
شاہ غلام قادر نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو ایک جیسا قرار دینے والے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ایسے خیالات زمینی حقائق سے لاعلمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 1947 میں آزاد کشمیر میں صرف ایک انٹر کالج، چند ہائی اسکولز اور محدود بنیادی سہولیات موجود تھیں، جبکہ آج خطے میں متعدد جامعات، میڈیکل کالجز، انجینیئرنگ یونیورسٹیاں، سینکڑوں کالجز، ہزاروں اسکولز، وسیع سڑکوں کا جال اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں کشمیری پاکستان کی مسلح افواج میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر گاؤں میں سیاست، ہر گھر میں الیکشن کا ماحول، آزاد کشمیر کے انتخابات ملک کے دیگر حصوں سے مختلف کیسے؟
شاہ غلام قادر نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد مختلف جیلوں میں قید ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں کسی بھی شخص کو سیاسی بنیادوں پر قید نہیں کیا جاتا، اس لیے دونوں خطوں کا تقابل کسی صورت درست نہیں۔
’ڈائسپورا کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے‘
شاہ غلام قادر نے بیرون ملک مقیم کشمیریوں (ڈائسپورا) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد زمینی حقائق سے پوری طرح آگاہ نہیں، جس کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بڑی تعداد میں بیرون ملک مقیم کشمیری اس وقت کوٹلی، میرپور اور بھمبر سمیت مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور وہ اپنی آنکھوں سے حالات دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر پہلے تحریک انصاف کے ساتھ منسلک تھے، بعد میں انہیں ایک نیا پلیٹ فارم مل گیا، تاہم تمام ڈائسپورا کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
نواز شریف اور مریم نواز کی مہم سے انتخابی ماحول پر مثبت اثر پڑا
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر نے کہاکہ پارٹی قائد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی انتخابی مہم نے کارکنوں اور ووٹرز کا حوصلہ بلند کیا۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے عوام کی نواز شریف کے ساتھ والہانہ محبت ہے، جو جلسوں میں بھرپور عوامی شرکت سے واضح ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے جلسوں میں بھی عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور لوگ جلسہ ختم ہونے تک اپنی جگہوں پر موجود رہے، جس سے پارٹی قیادت سے عوامی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
شاہ غلام قادر نے کہاکہ نواز شریف نے 2016 میں آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے باعث عوام آج بھی ان کے دور کو یاد کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ نواز شریف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ بھی آزاد کشمیر کی حکومت کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
پونچھ میں قیادت کی آمد کا فیصلہ حالات کے مطابق ہوگا
ایک سوال کے جواب میں شاہ غلام قادر نے کہا کہ ان کی رائے تھی کہ انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں مرکزی قیادت کے بڑے جلسوں کے بجائے امیدواروں کو گھر گھر رابطہ مہم پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ تاہم بعض رہنماؤں کی خواہش ہے کہ اگر موسم سازگار رہا تو نواز شریف حویلی کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق پارٹی کے مرکزی رہنما پہلے ہی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید سرگرمیاں بھی کی جائیں گی۔
صدر آزاد کشمیر کے عہدے پر سیاسی شخصیت ہونی چاہیے
صدر آزاد کشمیر کے عہدے سے متعلق سوال پر شاہ غلام قادر نے کہاکہ ان کی ذاتی رائے میں اس منصب پر سیاسی شخصیت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں جب صدر اور وزیراعظم کے منصب پر سیاسی شخصیات ہوتی تھیں تو پارٹی کے اندر معاملات میں بہتر توازن برقرار رہتا تھا، جبکہ غیر سیاسی شخصیت کے باعث تمام سیاسی ذمہ داری ایک ہی عہدے پر آ جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک سیاسی قیادت ہی اس منصب کی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھا سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر: میرپور ڈویژن میں انتخابات کل، 13 حلقوں میں 288 امیدوار مدمقابل، سخت سیکیورٹی انتظامات
جنگ کے دوران کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا
پاک بھارت کشیدگی اور حالیہ جنگ کے دوران کشمیریوں کے جذبات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ غلام قادر نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے کشمیریوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھرپور اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی گولہ باری کے خدشات کے باوجود ہزاروں افراد جلسوں میں شریک ہوئے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔
انہوں نے کہاکہ جو لوگ سرحدوں سے دور بیٹھ کر نعرے لگاتے ہیں اور جو لوگ گولوں اور گولیوں کے سامنے کھڑے ہو کر پاکستان کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، دونوں میں فرق ہوتا ہے، اور کشمیریوں نے ہمیشہ عملی طور پر اپنی وابستگی ثابت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر انتخابات: دوسرے مرحلے میں خاتون سمیت 7 نئے امیدوار پہلی بار اسمبلی میں پہنچ گئے
شاہ غلام قادر نے کہا کہ کشمیریوں کی شناخت، نظریہ، جغرافیہ اور مستقبل پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور وہ پاکستان کو ہی اپنی آخری منزل سمجھتے ہیں۔













