چند روز قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے قوم کو نوید دی کہ ملک کا نظام گل سڑ چکا۔ اس پر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے نابالغ سیاسی ورکرز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں لگا، محسن نقوی ہائبرڈ سسٹم کے گل سڑ جانے کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ سڑنے کا تو ہمیں نہیں پتا مگر اتنا جانتے ہیں کہ قوم کا ہر دوسرا فرد عام حالات میں یہ کہتا ملتا ہے ’اوپر سے نیچے تک سب کرپٹ ہیں‘ مگر اس ہر دوسرے شخص کا کوئی ایسا لیڈر یا مرشد ضرور ہے جس کے لیے وہ کسی کو بھی ماں بہن کی گالی دے سکتا ہے۔ لہٰذا یہ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایسی قوم کے ہوتے کوئی سیاسی یا مذہبی جنس گل نہیں سکتی۔ اگر محسن نقوی کے جملے کا مفہوم وہی ہوتا جو ان سیاسی نابالغانِ وطن نے لیا تو یہ جملہ محسن نقوی کے منہ سے بطور وزیر ہرگز نہ نکلتا۔ کیونکہ اتنی عقل تو وہ بھی رکھتے ہیں کہ وہ شاخ نہیں کاٹی جاتی جس پر اپنا ہی گھونسلہ ہو۔
اس معاملے کا ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ جب آپ کسی بھی شعبہ حیات سے وابستہ نمایاں لوگوں کو ٹی وی پر اپنے شعبے سے متعلق بات کرتے سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ملک بالکل ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ مثلا آپ وکلا برادری، یا ڈاکٹرز وغیرہ سے کہیں کہ آپ کے شعبے کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے تو یہ رٹے رٹائے جملے جواب میں آتے ہیں: ’میں مانتا ہوں کہ ہمارے شعبے میں چند کالی بھیڑیں ہیں، مگر آپ چند کالی بھیڑوں کے اعمال کی بنیاد پر پورے شعبے کو برا نہیں کہہ سکتے‘۔
یہ جملے اتنے عام ہیں کہ ملک کے سب سے کرپٹ محکمے یعنی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے منہ سے بھی یہی سننے کو ملتا ہے۔ ان کا بھی مؤقف یہ ہے کہ ان کے ہاں بس چند ہی کالی بھڑیں ہیں، ورنہ باقی سب تو فرشتے ہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر ہر شعبہ حیات میں بس چند ہی کالی بھیڑیں ہیں جن کی وجہ سے پورا محکمہ بدنام ہے تو اس کا تو سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ملک ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، بس کچھ محکمے بدنام ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟ ملک ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، بس اتنی معمولی سی بات ہے کہ ہر محکمے میں چند کالی بھیڑیں ہیں؟ آپ ذرا کسی وکیل رہنما سے اس کے اپنے شعبے سے ہٹ کر یہ سوال کر دیجئے: ’کیا ہمارا ملک ٹھیک چل رہا ہے؟ سسٹم عوام کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے؟‘
پھر آپ اسی ارسطو کے منہ سے سنئے گا کہ وہ سسٹم کے کون کونسے عیب ہیں جو نہیں گنواتا۔ یعنی مسئلے کی سنگینی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ ملک کے سسٹم کی تباہ حالی تو مانتے ہیں، لیکن یہ تسلیم کرنے کو کسی صورت تیار نہیں کہ ان کا اپنا شعبہ حیات بھی اس میں شامل ہے۔ یہ منافقت نہیں تو کیا ہے؟
اہم ترین سوال تو یہ ہے کہ آخر وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ بات کہنی کیوں پڑی ؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عام طور پر وزرا اپنے دور حکومت میں سسٹم کی برائی تسلیم نہیں کرتے۔ جو کرتے بھی ہیں تو یوں ’ہاں سسٹم بہت خراب ہے، لیکن جب سے ہم اقتدار میں آئے ہیں یہ ٹھیک ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اگر ہمیں 5 سال پورے کرنے دیئے گئے تو ان شا اللہ قوم ہمارے دور حکومت کے اختتام پر بہت بڑی تبدیلی دیکھے گی۔ پھر بھی اگر کچھ کسر رہ گئی تو اگلے الیکشن میں بھی ہمی کو ووٹ دیا جائے تاکہ پورے کا پورا سسٹم ٹھیک کردیں‘۔
ایسے ماحول میں محسن نقوی کے کھلے اعتراف کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کا کوئی حلقہ انتخاب ہی نہیں ہے۔ ان کا کوئی قائد بھی نہیں جس نے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردینا ہے، وزارت سے برطرف کردینا ہے اور اگلے الیکشن میں ٹکٹ نہیں دینا۔ وہ اقتدار کی گلیوں میں بہت محفوظ گیٹ سے داخل ہوئے ہیں۔ لیکن شنید یہ ہے کہ اس گیٹ پر ’کےٹو اور نانگا پربت‘ کے اس پار سے دباؤ آرہا ہے۔ جس کی اہمیت کو سمجھنا بیحد ضروری ہے۔
طاقت کا توازن پچھلے اڑھائی ہزار برس کے دوران مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کے حق میں کئی بار بدلا ہے۔ یوں دنیا کی سب سے بڑی نظریاتی تقسیم مشرق و مغرب کی تقسیم ہی ہے۔ آپ یہی دکھ لیجئے کہ بعض عالمی تجزیہ کار آپ کو ایران جنگ کے لیے مشرق وسطی کی جنگ، تو بعض مغربی ایشیا کی جنگ کی اصطلاح استعمال کرتے ملیں گے۔ فرق کیا ہے دونوں اصطلاحات میں؟ مغربی ایشیا جغرافیائی جبکہ مشرق وسطی نظریاتی اصطلاح ہے۔
مشر ق و مغرب کی اس تقسیم کی سب سے بڑی حساسیت اس ماڈرن دور میں یہ ہوگئی ہے کہ اب مشرق یا مغرب محض ایک سپر پاور کی قوت پر انحصار نہیں کرسکتا۔ یعنی یہ ممکن ہی نہیں کہ محض امریکا کی طاقت کے بل پر پورا مغرب ہی طاقتور رہ پائے۔ وہ مشینی دور سے قبل کا زمانہ تھا جب محض گریک سویلائزیشن یا رومن ایمپائر ہی پورے مغرب کے لیے کافی ہوجایا کرتی۔ یا مسلم دور سے قبل کی پرشین ایمپائر یا بعد کی مسلم ایمپائر کی طاقت سے پورا مشرق طاقتور بن جایا کرتا تھا۔ آج کی تاریخ میں دنیا سکڑ گئی ہے لہٰذا اب ایسا ممکن نہیں۔
آج ہم اس دور میں کھڑے ہیں جہاں مغرب و مشرق کی ہر اکائی یعنی ملک کو طاقت میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، تب ہی ثمرات میں سے حصہ بھی ملے گا۔ ورنہ ایک بھی کمزور اکائی سب کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ آپ 15 سولہ برس قبل کا یونانی بحران ہی دیکھ لیجئے جب پوری یورپین یونین اس ملک کی وجہ سے پریشان تھی اور اسے ڈنڈے کے زور پر اس ملک کو کسی مناسب حال تک لانا پڑا تھا۔
آج کی تاریخ میں چین اور روس کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ طاقت مغرب سے مشرق شفٹ تو ہو رہی ہے مگر مشرق کے بعض ممالک کا سسٹم اتنا گلا سڑا ہے کہ یہ سب کی ترقی کا سفر متاثر کرسکتے ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ مشرق کے بیشتر ممالک کی صورتحال اس لائق ہے کہ یہ مشرق کی طاقت میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ مگر ایسے ممالک بہر حال موجود ہیں جن کی داخلی صورتحال پریشان کن ہے اور پاکستان ایسے ممالک میں ٹاپ پر آتا ہے۔
کون انکار کرسکتا ہے کہ یہاں جس کا جی کرتا ہے کہیں بھی زمین قبضہ کرکے ہاؤسنگ اسکیم سے لے کر مدرسہ تک کچھ بھی غیر قانونی طور پر تعمیر کر ڈالتا ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو قانونی خانہ پری معمولی درجہ میں پوری کرکے فائلوں کو پہیے لگا دیتے ہیں اور ان پہیوں کی مدد سے لامحدود پھیلاؤ حاصل کرکے ٹی وی انٹرویوز میں اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی ہاؤسنگ اسکیم ہی اس ملک کے سڑے ہوئے سسٹم کی عبرتناک مثال تھی۔ کہنے کو بظاہر لگتا تو یوں ہے جیسے اس پراپرٹی ٹائیکون کا جن قابو کر لیا گیا ہے۔ مگر کیا گارنٹی ہے کہ جب ٹاپ پر آگے چل کر نئے صاحب آئیں گے تو وہ اسی جن سے معذرت کرکے اسے واپس نہ لے آئیں گے؟
اس ملک کے نظام میں خرابیاں اتنی ہمہ گیر ہیں کہ انہیں گنوانے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہر شخص کسی نہ کسی سرکاری محکمے یا پرائیویٹ سیکٹر کے کسی ادارے کے ہاتھوں پریشان ہے۔ ہماری ہی مثال لے لیجئے۔ ہم کراچی کی ایک بڑی ہاؤسنگ اسکیم گلشن معمار میں رہتے ہیں۔ پچھلے 2 ماہ سے صورتحال یہ ہے کہ پانی ہر 18 دن بعد ہی آتا ہے جو فقط ایک ہفتے کے لیے کافی ہوتا ہے۔یہ تک واضح نہیں کہ اس کا سبب کیا ہے؟ کیا ہاؤسنگ اسکیم نے حکومت کے بل ادا نہیں کیے؟ کیا پانی چوری کیا جا رہا ہے؟ نتیجہ یہ کہ اب لوگ اس بڑی رہائشی اسکیم سے کوچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کی ایک مستقل سنگینی یہ ہے کہ یہاں صرف ملک کا شہری ہی پریشان نہیں۔ بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی ماحول ساز گار نہیں۔ لاہور کا غیر ملکی خواتین والا معاملہ تو ابھی لوگوں کی یاداشت سے اترا بھی نہ ہوگا۔ لیکن صورتحال بڑی سطح پر اس سے بھی زیادہ مخدوش اور سنگین ہے۔ ذرا ریکوڈیک والا کیس ہی یاد کر لیجئے جب ایک چیف جسٹس صاحب کی شوبازی کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کک بیکس پر کھڑے اس سسٹم نے سب سے زیادہ پریشانیاں مشرقی ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے ہی کھڑی کرنی ہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں سجدہ تعظیمی صرف گوری چمڑی کو کرنے کی روایت ہے۔ سو یہ مشرق کی 2 بڑی طاقتوں کا دباؤ ہے جسے محسن نقوی کی تقریر سے ہینڈل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا بات بس اس تقریر تک ہی رہے گی یا کوئی پیشرفت بھی ہوگی ؟ یہ ہے اصل سوال!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













