سیاروں کی سطح کا جائزہ لینے کے لیے ربوٹک ڈاگ کی تربیت کا آغاز

اتوار 14 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدان ماؤنٹ ہُڈ پر ایک ایسے ربوٹک ڈاگ کی تربیت کر رہے ہیں جسے اسپرٹ کا نام دیا گیا ہے، یہ ربوٹک ڈاگ دشوار گزار علاقے میں اپنی 4 ٹانگوں کے ذریعے پتھریلی سطحوں اور نرم زمین پر چلنا سیکھ رہا ہے۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان کی تحقیق سے مستقبل میں چاند اور ہمارے نظام شمسی کے دیگر سیاروں پر مشن کے لیے دیگر روبوٹک ڈاگز کو تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

اینالاگ انوائرنمنٹ (لاسی) پروجیکٹ کی سائنسدان کرسٹینا ولسن کا کہنا ہے کہ ربوٹک ڈاگ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے ساتھ ہی  وہ اپنی ٹانگ سے مکینیکل مزاحمت کو محسوس کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم انسان ناہموار سطحوں پر چلتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ سائنسدان اس ڈیٹا میں دلچسپی رکھتے ہیں سیاروں کی سطح کیسے بنی، یہ کیسے حرکت کرتی ہے اور مستقبل میں یہ کیسے حرکت کر سکتی ہے۔

یہ تحقیق لاسی پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس میں نیشنل ایروناٹیکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن کے ماہرین کی ایک ٹیم اور 5 یونیورسٹیوں بشمول یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا، ٹیکساس اے اور ایم یونیورسٹی اور اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوئٹزر لینڈ: شہباز شریف کی جرمن زبان میں گفتگو نےصحافیوں کو حیران کر دیا

بینظیر بھٹو شہید کی 73 ویں سالگرہ، صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا شاندار خراجِ تحسین

عظمیٰ بخاری کی پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پر تنقید، سوشل میڈیا الزامات کا جواب دے دیا

ہٹلر سے متاثراسرائیلی رکن پارلیمنٹ نے غزہ کے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا مشورہ دیدیا

بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج

ویڈیو

امریکا ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟