نگراں دور کی پالیسیوں پر عملدرآمد کیا جائے، آئی ایم ایف کی انوارالحق کاکڑ کے اقدامات کی تعریف

ہفتہ 11 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے انوارالحق کاکڑ کی نگراں حکومت میں ہونے والے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے سفارش کی ہے کہ موجودہ حکومت نگراں دور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد کرے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ نگراں حکومت نے کسی بھی سیاسی نقصان کی پرواہ کیے بغیر معاشی اقدامات کیے اور قرضے کم کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔

عالمی ادارے کے مطابق نگراں حکومت نے پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے سخت کوشش کی، انہی کی معاشی پالیسیوں کی بدولت ہی بیرونی آمدن بحال ہوئی، اب ضروری ہے کہ ان پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نگراں دور کے فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے قرضوں کو کم کیا جائے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بھی اقدامات کیے اور ملکی آمدن بڑھانے کے لیے کاوشیں کیں۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ مرکزی حکومت معاشی چینلجز سے نمٹنے کے لیے صوبوں سے رابطے مضبوط کرے، جبکہ ملکی اخراجات کو کنٹرول کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اقتصادی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کی تیاریاں، اسحاق ڈار کی صدارت میں جائزہ اجلاس

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ٹرمینل پر بندر کی انٹری نے دھوم مچادی

پاکستان اور برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، منشیات اور سائبر کرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد ایئرپورٹ پر نئے اسٹیٹ لاؤنج کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

نیسلے پاکستان نے 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس میں 2 ایوارڈز جیت لیے

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر تباہ کرنے کی دھمکی، فوجی کارروائی کا فیصلہ جلد متوقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟