’سستی ترین ایئر لائنز بھی اپنے عملے کے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں کرتیں جتنا ایئر انڈیا نے کیا‘

ہفتہ 13 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں حیرت انگیز اور دلچسپ واقعات تو بہت ہوتے ہیں تاہم  کچھ واقعات سب کی توجہ خوب سمیٹ لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی ایئر لائن کے کیبن کریو کے ساتھ پیش آیا جس نے عالمی میڈیا کو بھی متوجہ کرلیا۔

ایئر لائنز اپنے کیبن کریو کے لیے طویل پروازوں کے بعد ہوٹل بک کرواتی ہیں تاکہ ان کے آرام کا خیال رکھا جا سکے لیکن حال ہی میں ایئر انڈیا کو اپنے عملے کے ارکان کے لیے مناسب رہائش فراہم نہ کرنے پر تنقید کا سامناہے۔

سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس پر ایک صارف نے ہوٹل کی تصاویر شیئر کیں جس میں ایک کمرہ دکھایا گیا ہے۔ کمرے میں ایک سنگل بیڈ پڑا ہوا ہے جو بیڈ شیٹ کے بغیر ہے اور دوسری تصویر میں کمرے کے اندر سامان بے ترتیبی سے پڑا ہے۔

یہ تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے صارف نے ایئر انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر آپ ایئر انڈیا کو عالمی معیار کی ایئر لائن بنانا چاہتے ہیں تو ایک لمبی فلائٹ سے واپس آنے والے ائیر لائن کے عملے کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرناچاہیے۔

صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 4 گھنٹے تک عملہ ہوٹل تلاش کرتا رہا اور آخر کار آپ نے ان کو ایسا کمرہ دیا جس میں نہ کوئی بیڈ شیٹ ہے نہ تولیے اوت سہولیات کا فقدان ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔

 انہوں نے کہا کہ نیند سے محروم جہاز کا عملہ آپ کے اس توہین آمیز سلوک کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ صارفین کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ ائیر لائن کے عملے کو دی جانے والی سہولیات اتنی بری ہو سکتی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ سستی ترین ایئر لائنز بھی اپنے عملے کے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں کرتیں جتنا ایئر انڈیا نے اپنے عملے کے ساتھ کیا۔

سنجے نامی صارف نے لکھا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ایئر انڈیا نے اپنا معیار اتنا گرا لیا ہے۔

جہاں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں ایک صارف نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی پریکٹس ہے کہ کیبن کریو کو آرام کرنے کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل نہیں دیے جاتے بلکہ رہائش کے لیے الاؤنس دیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟