پشاور: 1200 مظاہرین گرڈ اسٹیشن میں داخل، زبردستی فیڈرز چالو کروا لیے

جمعرات 25 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے علاقے دلہ زاک  کے گرڈ اسٹیشن پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا۔ ترجمان پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مطابق

1200 سے زائد مشتعل مظاہرین زبردستی گرڈ اسٹیشن میں داخل ہوئے۔ انہوں نے  زبردستی گلوزئی اور محمدزئی فیڈرز چالو کرائے۔ مظاہرین نے مذکورہ فیڈرز پر لوڈ منیجمنٹ کم کرنے کے لیے پیسکو عملے پر دباؤ ڈالا۔

پیسکو ترجمان کے مطابق گلوزئی فیڈر پر لائن لاسز 80فیصد جبکہ محمد زئی فیڈر پر لاسز 72 فیصد ہیں۔ لائن لاسز کی زیادتی کے باعث مذکورہ فیڈرز پر لوڈ منیجمنٹ کی جاتی ہے۔

گرڈ اسٹیشن میں مظاہرین کے داخل ہونے کے بعد جس کے بعد  پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ اب مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی  پشاور کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے گرڈ اسٹیشنز میں داخل ہوکر اپنے علاقوں کی بجلی بحال کروائی تھی۔ جبکہ خود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اپنے آبائی علاقے میں اپنے حامیوں سمیت ایک گرد اسٹیشن میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بھی اپنے علاقوں کے بعض فیڈرز کی بجلی بحال کروائی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نوٹس پیریڈ ۔۔۔ آپ کا اصل امتحان!

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

نئے صوبوں کی تشکیل عوامی ضرورت ہے، سیاستدان ذمہ داری لیں: عبدالعلیم خان

2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کا ہدف

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی