’ان چوزن‘: شخصی آزادی جن کا مقدر نہ بن سکی

جمعرات 1 اکتوبر 2026
author image

صنوبر ناظر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیڈز میں ہمیں نئے گھر میں شفٹ ہوئے ابھی 4 ،5 دن ہی گزرے تھے۔ ایک شام ہم سب لاؤنج میں بیٹھے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔

میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بڑی عمر کا خوش لباس انگریز کھڑا تھا، عمر کوئی 65، 70 ستر برس ہوگی۔ اس کے ساتھ ایک نسبتاً چھوٹے قد کی خاتون تھی جو چہرے مہرے سے عرب نژاد لگ رہی تھی۔ دونوں نے مسکراتے ہوئے ہیلو کہا اور پوچھا کہ کیا وہ چند منٹ کے لیے اندر آ سکتے ہیں۔

میں نے انہیں خوش دلی سے اندر بلا لیا۔

بیٹھنے کے بعد انہوں نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک چرچ ہے، فیلوشپ چرچ، جہاں خاص طور پر بیرونِ ملک سے آنے والے طلبہ، محققین اور نئے آباد ہونے والے خاندانوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چرچ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو بچوں سمیت وہاں آ سکتے ہیں۔

اتفاق سے چند دن بعد اتوار آ گیا۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ چرچ جا کر دیکھا جائے۔ آخر ہم اس شہر میں نئے تھے اور دوستوں اور جاننے والوں کی ضرورت بھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

چرچ پہنچ کر میری پہلی حیرت یہ تھی کہ وہ روایتی تصور کے مطابق چرچ بالکل نہیں تھا۔ نہ دیواروں پر حضرت عیسیٰؑ یا حضرت مریمؑ کی تصویریں تھیں، نہ مجسمے، نہ شمع دان۔ ایک سادہ سا گھر تھا جس کے اندر ایک بڑا ہال تھا۔ ماحول میں عجیب سی سادگی اور اپنائیت تھی۔

وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ موجود تھے۔ چینی، ویتنامی، امریکی، لاطینی امریکی، برطانوی اور کئی دوسرے ممالک کے افراد۔ چونکہ ہماری رہائش یونیورسٹی کے قریب تھی، اس لیے مختلف قومیتوں کے لوگ وہاں آتے تھے۔

کچھ مذہبی نغمے گائے گئے، چند مختصر تقاریر ہوئیں، پھر سب نے مل کر کھانا کھایا۔ ماحول میں کسی قسم کی اجنبیت نہیں تھی۔ یوں ہم نے تقریباً ہر اتوار وہاں جانا شروع کر دیا۔

ایک دو بار تو ہم خالی ہاتھ گئے لیکن پھر میں کبھی پلاؤ، کبھی پکوڑے، کبھی چکن کڑاہی اور کبھی کوئی میٹھی چیز بنا کر لے جانے لگی۔ آہستہ آہستہ لوگ ان ذائقوں کے اس قدر عادی ہو گئے کہ میری ڈشز کا انتظار کیا جانے لگا۔ اسی بہانے دوستیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا اور چرچ کے بعض افراد کا ہمارے گھر آنا جانا بھی شروع ہو گیا۔

انہی ملاقاتوں کے دوران میں نے ایک بات خاص طور پر محسوس کی۔

چرچ سے وابستہ خواتین کا لباس ایک خاص طرز کا تھا۔ وہ ایسے کپڑے پہنتی تھیں جن میں جسم کے نشیب و فراز نمایاں نہ ہوں۔ لمبی آستینوں والی ڈھیلی ڈھالی قمیضیں، گلے تک بند بٹن، لمبے اسکرٹ، اور اگر پتلون ہوتی تو وہ بھی بے ڈھب ڈھیلی سی، تقریباً پاجامے جیسی۔ بہت سی خواتین سر پر ہلکا سا اسکارف یا رومال بھی باندھتی تھیں۔

اس وقت یہ منظر مجھے کچھ عجیب بھی لگتا تھا اور دلچسپ بھی۔

لیکن لباس سے زیادہ جس چیز نے مجھے حیران کیا، وہ ان کا بناؤ سنگھار سے  مکمل اجتناب تھا۔

میں نے وہاں نوجوان لڑکیوں سے لے کر معمر خواتین تک کسی کو کبھی میک اپ میں نہیں دیکھا۔ حتیٰ کہ لپ اسٹک بھی نہیں ۔ نہ بھنوؤں کی تراش خراش، نہ فیشن کے مطابق چہرے کی آرائش۔

اس زمانے میں میں نے اس مشاہدے پر زیادہ غور نہیں کیا تھا، لیکن آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان خواتین کے لباس، ان کی سادگی اور ان کے طرزِ زندگی کے پیچھے یقیناً کوئی مذہبی یا فکری تصور کارفرما تھا، جسے سمجھنے میں مجھے کافی وقت لگا۔

چرچ سے وابستہ خاندانوں میں سے 2 گھرانوں کے ساتھ ہماری خاصی گہری دوستی ہو گئی تھی۔

ان میں ایک رچرڈ اور کیتھرین کا خاندان تھا۔ ان کی 2 بیٹیاں تھیں، ریچل اور سارہ۔

دونوں بہنیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ ریچل کی حرکات و سکنات میں ایک طرح کی لڑکوں جیسی بے تکلفی تھی۔ اس کے بال چھوٹے تھے، لباس ڈھیلا ڈھالا اور انداز ایسا کہ گویا وہ نسوانیت کے روایتی سانچے سے دور رہنا چاہتی ہو۔ دوسری طرف سارہ تھی؛ نہایت خوبصورت، نرم مزاج اور مکمل طور پر نسوانی شخصیت کی حامل۔

ایک دن سارہ نے موقع پا کر میرے کان میں سرگوشی کی۔

’میں اور ریچل کسی دن آپ کے پاس اکیلے آئیں گے‘۔

اس کے لہجے میں ایک راز داری تھی جس نے مجھے متجسس کر دیا۔

چند دن بعد دونوں بہنیں اچانک میرے گھر آ پہنچیں۔

اندر آتے ہی سارہ نے پوچھا:

’کیا آپ کے پاس ساڑھی ہے؟‘

میں نے حیرت سے کہا، ’ہاں، کیوں؟‘

وہ ذرا جھجکی، پھر بولی، ’کیا آپ مجھے ساڑھی باندھنا سکھا سکتی ہیں؟‘

میں مسکرا دی۔ الماری سے ایک گلابی بنارسی ساڑھی نکالی اور اسے باندھنی شروع کر دی۔ ساڑھی باندھنے کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو حیرت سے دیکھتی رہی، جیسے پہلی بار اپنا کوئی نیا روپ دریافت کر رہی ہو۔

پھر اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:

’کیا میں آپ کی لپ اسٹک اور بلش استعمال کر سکتی ہوں؟‘

میں نے کہا، ’کیوں نہیں؟‘

وہ فوراً بولی:

’لیکن پلیز، میرے والدین کو مت بتائیے گا۔ ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے۔‘

یہ سن کر میں چونک گئی۔

میں نے اس کا ہلکا سا میک اپ کیا، ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائی، وہ آئینے کے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایسی خوشی تھی جیسے کسی بچے کو برسوں بعد اپنی پسندیدہ چیز مل گئی ہو۔

میں نے اس کی چند تصویریں بھی بنائیں۔

لیکن اس نے فوراً کہا:

’پلیز، یہ تصویریں کسی کو مت دکھائیے گا‘۔

میں نے وجہ پوچھی تو اس نے آہستہ آہستہ اپنے دل کا راز کھولا۔

دراصل اس کا ایک بوائے فرینڈ تھا جو بھارتی نژاد تھا اور سارہ کو یقین تھا کہ اسے ساڑھی میں اس کی تصویر بہت پسند آئے گی۔

میں نے کہا:

’اگر تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو تو پھر تم یہ بات اپنے والدین کو کیوں نہیں بتاتیں؟‘

سارہ خاموش ہو گئی۔ پھر دھیرے سے بولی:

’کیونکہ وہ کبھی اجازت نہیں دیں گے‘۔

’کیوں؟‘

’کیونکہ ہم اپنی فیلوشپ سے باہر شادی نہیں کر سکتے‘۔

اس کا جواب سن کر میں واقعی حیران رہ گئی۔

یہ لیڈز تھا، برطانیہ کا ایک بڑا اور جدید شہر۔ میں سمجھتی تھی کہ یہاں نوجوان اپنی پسند سے زندگی کے فیصلے کرتے ہوں گے۔ مگر اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ روایت، مذہبی شناخت اور سماجی پابندیاں صرف مشرقی معاشروں کی میراث نہیں ہوتیں۔ ان کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ان کا وجود ہر جگہ پایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: اے ٹی ایم مشین 

دوسرا خاندان جس سے ہماری گہری دوستی ہوئی، وہ اینڈریا اور مائیک کا تھا۔ اینڈریا جرمن تھیں اور ان کے شوہر مائیک آئرش۔ ان کی بھی 2 بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹی ایسٹر جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار تھی، جبکہ بڑی بیٹی لیڈیا غیر معمولی طور پر خوبصورت تھی۔

لیڈیا ان لڑکیوں میں سے تھی جنہیں خوبصورت نظر آنے کے لیے کسی میک اپ یا بناؤ سنگھار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کی خوبصورتی سے زیادہ مجھے اس کی بے چینی یاد ہے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس ماحول میں گھٹن محسوس کرتی تھی۔ وہ اکثر بہانے سے ہمارے گھر آ جاتی، میری بیٹیوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھی رہتی، باتیں کرتی، ہنستی کھیلتی اور جیسے کچھ دیر کے لیے کسی اور دنیا میں چلی جاتی۔

پھر وقت گزرا، اور ہم واپس پاکستان آ گئے۔ اگرچہ رابطے کم ہو گئے، مگر کچھ خاندانوں سے فون اور ای میل کے ذریعے خبریں ملتی رہیں۔

برسوں بعد معلوم ہوا کہ سارہ نے بالآخر اپنے بھارتی نژاد بوائے فرینڈ سے بھاگ کر شادی کر لی۔ اس نے فیلوشپ چرچ سے وابستگی ختم کر دی اور چرچ کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر الگ ہو گئی۔ اس کے خاندان نے بھی اس سے تقریباً قطع تعلق کر لیا۔

کچھ عرصہ بعد لیڈیا کے بارے میں خبر ملی۔ وہ اپنی ایک ساتھی کے ساتھ رہنے لگی۔ آج کل وہ نیدرلینڈز میں مقیم ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی سرگرمیاں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ فلسطین اور لبنان کے حق میں بہت سرگرم ہے اور مغربی سیاست و معاشرے کے بارے میں بھی اس کے خیالات خاصے تنقیدی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی اسی مذہبی ماحول سے دور بھاگی جس میں اس کی پرورش ہوئی تھی۔

آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنا رہی ہوں۔

وجہ یہ ہے کہ حال ہی میں میں نے نیٹ فلکس پر ایک نئی سیریز دیکھی، Unchosen۔

اسے دیکھتے ہوئے میں بار بار لیڈز کے انہی دنوں میں واپس چلی جاتی تھی۔ اس سیریز کے کردار، خواتین کا لباس، ان کی روزمرہ زندگی، ان کے مذہبی فرائض، نوجوان نسل کی گھٹن، ان کی خاموش شکایتیں اور بزرگوں کی سخت نگرانی، سب کچھ مجھے حیرت انگیز حد تک مانوس محسوس ہوئی۔

خاص طور پر خواتین کے کردار تو ایسے لگتے تھے جیسے میں نے انہیں پہلے کہیں دیکھا ہو۔ اور پھر یاد آیا کہ میں تو برسوں پہلے ان جیسے کرداروں کے درمیان رہ چکی ہوں۔

اکثر ہمارے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ مغرب مکمل آزادی، لامحدود انفرادیت اور سماجی بندشوں سے پاک معاشرہ ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مختلف ہے۔ اس میں قطعی کوئی شک نہیں کہ ہمارے جیسے معاشروں میں رجعت پسند اکثریت میں ہیں لیکن مغرب میں بھی ایسے مذہبی گروہ اور کمیونٹیز موجود ہیں جہاں زندگی کے اصول نہایت سخت ہوتے ہیں، جہاں لباس، تعلقات، شادی اور ذاتی انتخاب پر گہری سماجی اور مذہبی نگرانی موجود ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

شاید اسی لیے سارہ اور لیڈیا کی کہانیاں مجھے آج بھی یاد ہیں۔ وہ صرف 2 لڑکیوں کی کہانیاں نہیں تھیں بلکہ اس کشمکش کی کہانیاں تھیں جو دنیا کے ہر معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے: فرد اور برادری کی کشمکش، آزادی اور اطاعت کی کشمکش، اور اپنی زندگی خود چننے کے حق کی کشمکش۔

اگر آپ مغربی معاشروں کو صرف فلموں، سیاحتی تصاویر یا سوشل میڈیا کی چمک دمک سے جانتے ہیں تو Unchosen ضرور دیکھیے۔ شاید آپ کو اندازہ ہو کہ بند معاشرے صرف مشرق میں نہیں ہوتے، ان کی مختلف شکلیں مغرب میں بھی موجود ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے مکمل شیڈول کا اعلان، پاکستان، بھارت گروپ میچ 10 اکتوبر کو ہوگا

ہمالیہ میں کیمپ تیار کرتے ہوئے برفانی تودہ گرنے سے 15 نیپالی کارکن ہلاک

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان پس پردہ 7 ملاقاتیں کن اہم شخصیات کے گھروں پر ہوئیں؟

ریاست ہے تو سیاست، جمہوریت اور ہم سب ہیں، دہشتگردوں کی سہولتکاری اب نہیں چلے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سخت پیغام

پاکستان عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، لاہور کانفرنس میں متفقہ قرارداد پیش

ویڈیو

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان پس پردہ 7 ملاقاتیں کن اہم شخصیات کے گھروں پر ہوئیں؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہنگامی پریس کانفرنس،کیا سہیل آفریدی جانے والے ہیں؟

عدم اعتماد کی صورت میں پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کا سہیل آفریدی کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

جین زی کا دوسرا دور اور نیا پیٹرن

تحریک انصاف کا 13 سالہ اقتدار: خیبرپختونخوا کو کیا ملا؟

زیباک طالبان سے آزادی کا مرکز کیوں بن سکتا ہے؟