پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے باقاعدہ فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی، جبکہ اہم رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی جانب سے متوقع مالی تعاون نہ ملنے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی خود چندہ مہم کی قیادت کرنے میدان میں آگئے۔ پارٹی نے اندرونِ ملک کارکنوں کے ساتھ اوورسیز پاکستانیوں سے بھی عطیات کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی چندے کے لیے میرے پاس آتے تھے، اسحاق ڈار
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے دوران پارٹی کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے۔ اس سے قبل صوبائی اور مرکزی قیادت کی جانب سے کارکنوں سے احتجاج کے لیے فنڈ ریزنگ میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اہم شخصیات کی عدم دلچسپی کے باعث مہم مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرسکی، جس کے بعد سہیل آفریدی نے خود معاملہ سنبھال لیا۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے حوالے سے فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ویڈیو پیغام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی صاحب پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں بروز جمعہ 2 اکتوبر شام 4 بجے موجود ہوں گے۔ وہ تمام افراد جو لانگ مارچ کے لیے چندہ دینا چاہتے ہیں، وہ اپنا چندہ براہِ راست… pic.twitter.com/HOLwOelbXv
— Shafi Jan (@ShafiJanPTI) October 1, 2026
وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی نے کارکنوں، بالخصوص اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے لیے دل کھول کر عطیات دیں۔ ان کے مطابق فنڈ ریزنگ کے پورے عمل کی وہ خود نگرانی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے دیا
دلچسپ امر یہ ہے کہ 2024 کے انتخابات کے بعد تقریباً 20 ماہ تک علی امین گنڈاپور کے دور میں پی ٹی آئی کے احتجاجی پروگراموں کے لیے اس انداز میں عوامی چندے کی اپیل سامنے نہیں آئی۔ علی امین گنڈاپور ماضی میں یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنی اراضی فروخت کرکے احتجاجوں کے اخراجات پورے کیے، تاہم پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں کی جانب سے اس دور کے احتجاجی اخراجات کے حوالے سے مختلف دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے متعدد ارکان نے وی نیوز کو بتایا کہ اگر سہیل آفریدی یہ یقین دہانی کرائیں کہ احتجاج میں شریک کارکنوں کے تمام اخراجات پارٹی برداشت کرے گی تو وہ بھی مالی تعاون پر غور کرسکتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں حلقوں سے کارکنوں کو لے جانے، ان کی ٹرانسپورٹ اور خوراک کے اخراجات ارکان اسمبلی کو خود برداشت کرنا ہوں گے، جس کے باعث ان کے لیے چندہ دینا بھی آسان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی قیادت کو لانگ مارچ کیوں ’موخر‘ کرنا پڑا؟
دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے بیان جاری کیا ہے کہ میرے قافلے میں جتنے لوگ ہوں گے ان کے اخراجات بھی میں خود برداشت کروں گا، گاڑیاں نہیں مل رہی تھیں، گاڑی والوں کو 15 لاکھ روپے فی گاڑی شورٹی بھی میں نے جمع کروائی ہے، 3 کروڑ روپے تک ٹرانسپورٹ کی شورٹی جمع کروا چکا ہوں۔














