حکومت کا چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے دو ججز کیخلاف ریفرنس کا عندیہ

اتوار 2 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے الیکشن التوا کیس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت تین ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔

’ریفرنس دائر کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا لیکن تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔‘

وزیر داخلہ کے مطابق تینوں ججز کا مسلم لیگ ن کے خلاف فیصلے دینے کا لمبا ریکارڈ ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے پنجاب میں ن لیگ کی حکومت 63 اے کی بنیاد پر ختم کرنے کے عدالتی فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا۔

الیکشن التوا کیس کے حوالہ سے وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اب بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تینوں جج صاحبان ہر قیمت پر اس فیصلے کو یا اس قضیہ کو خود نمٹانے پر بضد ہیں۔

’اب تینوں ججز نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کردی ہے اور اپنے ساتھی ججز ، جو اکثریت میں ہیں، ان کی بات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی صورت نہیں کہ ہم اپنا احتجاج نوٹ کرائیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت، 17 ستمبر تک ملتوی

عوامی مقاصد کے لیے اراضی کے حصول پر بڑا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 128 ارب روپے مختص کیے، وزیراعظم

عمران خان کی اسپتال منتقلی کیوں تعطل کا شکار ہے؟

وفاقی کابینہ کی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری

ویڈیو

عمران خان کو طبی سہولیات مل رہی ہیں، اب احتجاج کی ضرورت نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کیا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

پاکستان کی سیاست میں بڑا طوفان، کیا پی ٹی آئی کی ڈیل ہوگئی؟

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟