سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

پیر 5 اکتوبر 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختون خوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کے گاؤں میر مست منجی والا کا سرکاری پرائمری اسکول اپنی نوعیت کا واحد اسکول ہے۔ اس کے نزدیک کئی کوس تک کوئی اور پرائمری اسکول نہیں۔ نزدیکی علاقے کے وہ والدین جو اپنے بچوں کو ہر قیمت پر تعلیم دلوانا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو کئی کوس کا سفر طے کر کے یہاں لے آتے ہیں۔ سفر عموماً پیدل ہوتا ہے کیونکہ نہ سڑک کی حالت درست ہے نہ مکینوں کی۔ غربت واحد چیز ہے جس کی یہاں بہتات ہے۔

لکی مروت سے ’وی نیوز‘ کے محنتی اور دیانتدار  خصوصی نمائندے غلام اکبر مروت بتاتے ہیں کہ علاقے کی تعلیمی سہولیات سب کی سب اسی اسکول تک محدود ہیں، جہاں تعلیم کے اعلیٰ درجات  تیسری جماعت کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیدل مزید کئی کوس چلنا پڑتا ہے۔ سب والدین اس مشقت کی تاب نہیں رکھتے۔ لڑکوں کو تو شاید پھر کوئی دور اسکول بھیجنے کی ہمت کر لے مگر لڑکیوں کی آخری درسگاہ یہی ہے۔ یہی ان کا کالج اور یہی ان کی یونیورسٹی۔ یہی ان کی مادرِ علمی اور یہی ان کی آخری تعلیمی منزل ہے۔

بدقسمتی سے اس تعلیمی درسگاہ کا آخری علمی درجہ جماعت سوئم  پر جا کر دم توڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد بیشتر پر علم کا چراغ گل ہو جاتا ہے۔

اس اسکول کے انوکھے پن کی وجہ نہ اس کا اعلیٰ فرنیچر ہے، نہ تعلیم یافتہ اساتذہ ہیں، نہ ہونہار طلبا ہیں، نہ ڈگری کی وقعت ہے، نہ ڈسپلن وجۂ شہرت ہے، نہ عمارت لاجواب ہے، نہ غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے یہ معروف ہے۔ یہ اسکول ایک درخت کی وجہ سے مشہور ہے۔ درخت کئی دہائیوں پرانا ہے۔ اس کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہی درخت اس اسکول کی عمارت ہے۔ یہی درخت اس اسکول کا کل اثاثہ ہے۔ یہی درخت اس کے طلبا کا کھیل کا میدان ہے، یہی درخت غیر نصابی سرگرمیوں کی مرکز ہے۔ یہی درخت اساتذہ کی آرام گاہ ہے۔ یہی درخت اس کے طلبا و طالبات کا نصب بھی ہے اور نصیب بھی۔

یہ نہیں کہ اس اسکول کے پاس کچھ بھی نہیں۔ علاقے کے ایک مخیر شخص حاجی نواب خان نے ستائیس سال پہلے اپنی جائیداد میں سے دو کمرے اس اسکول کو عطا کیے تھے۔ ایک کمرے کی چھت اب قریبا گر چکی ہے۔ انہدام کا فیصلہ کہیں شہتیروں میں معلق ہے۔ دوسرے کمرے میں اس اسکول کا قیمتی اسباب ہے، جس میں ایک بوسیدہ وائٹ بورڈ، جس کو جتنا رگڑ کر صاف کرو اتنا ہی گندا رہتا ہے، چاک کا ایک ڈبہ، ڈسٹر کے نام پر ایک کترن اور پاکستان کا ایک جھنڈا اثاثہ ہے۔ ان سب اثاثہ جات کے لیے مقامی آبادی کا تعاون درکار ہوتا ہے۔

آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ اسکول پرائیویٹ اسکول ہے۔ نہیں جناب، یہ اسکول مکمل طور پر سرکاری اسکول ہے اور اس کے اساتذہ کی تنخواہ سرکار عطا کرتی ہے۔ علاقہ مکین شاید نہ جانتے ہوں لیکن سرکار کے کاغذوں میں کہیں اس کی بلڈنگ بھی ہو گی، جس میں بجلی، پانی کا بل بھی آتا ہو گا، جس کے رنگ روغن کا بجٹ بھی ہر سال سرکاری فائلوں میں تفویض کیا جاتا ہو گا اور سرکاری فائلوں میں ہی یہ کہیں گم ہو جاتا ہو گا۔

علاقہ مکین ایک دو سال سے نہیں، ستائیس سال سے حکومت خیبر پختون خوا سے درخواست کر رہے ہیں کہ اس اسکول کو عمارت عطا کی جائے۔ جو عمارت کاغذوں میں موجود ہے اس کو ظہور پذیر کیا جائے۔ لیکن ستائیس سال ہو گئے، کچھ بھی نہیں ہوا۔ درخواستیں فائلوں کی نذر ہو گئیں۔ سرخ فیتہ علاقے کے لوگوں کی ڈیمانڈ کو کھا گیا۔ کیا کچھ نہیں ہوا اس صوبے میں۔ لیکن کسی حکومت کو اس ایک درخت پر محیط اسکول کو عمارت دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔

گزشتہ تیرہ سال سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ یہی وہ صوبہ ہے جہاں سب سے پہلے تعلیم کے سونامی کا اعلان کیا گیا تھا۔

جہاں سب سے پہلا نعرہ لگا تھا کہ اب کوئی بچہ اسکول سے باہر نہیں رہے گا۔ جہاں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سب بچے سائنسدان، انجینئر اور ڈاکٹر بنیں گے۔ بچوں کو اسکول میں کھانا ملے گا۔ والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کا انعام نقد رقم کے طور پر دیا جائے گا۔ لیکن کچھ نہ ہوا۔

اس صوبے نے گزشتہ تیرہ سال میں صرف لانگ مارچ دیکھے، انتشار دیکھا، اختلاف دیکھا۔ وفاق پر چڑھائی کے نعرے سنائی دیے۔ جلاؤ گھیراؤ کا فلسفہ سنا۔ گالی دینے کے ’فضائل‘ سنے۔ دلیل کو گالی سے رد کرنے کا درس سنا۔ یہ وہ بدنصیب صوبہ ہے جس کے عوام کو باشعور کہہ کر بے وقوف بنایا گیا۔ ان کو بنیادی حقوق سے محروم اس لیے رکھا گیا کہ سوچ سے عاری رہیں۔ وہ لوگوں کے ذاتی مفادات کی جنگ پر آمادہ رہیں۔ وہ گالی اور گولی کی سیاست کو ہی اپنا مقدر مان لیں۔

ہو سکتا ہے آپ کا گزر کبھی اس علاقے سے نہ ہو۔ آپ کو اس علاقے کے لوگوں کی تعلیمی مشکلات کا اندازہ نہ ہو۔ یا پھر آپ اس ساری بات کو دروغ سمجھ رہے ہوں تو آپ سے التماس ہے کہ اس اسکول میں  جائیں اور یہاں پر دوسری جماعت کی چھ سالہ طالبہ حبیبہ سے ملیں، جو شوق سے سبق یاد کرتی ہے۔ آگے پڑھنا چاہتی ہے۔ جس کے  بکھرے بال سنہری ہیں۔ جس کے لباس سے غربت عیاں ہے اور جس نے ایک کترن دوپٹے کے نام پر اوڑھی ہوئی ہے۔

موقع ملے تو تیسری جماعت کے نیلی آنکھوں والے خوش شکل طالب علم متین سے ملیں۔ جس نے سر پر پٹھانوں والی ٹوپی پہنی ہے۔ ہر روز جامنی رنگ کا ایک ہی پھٹا ہوا لباس پہنا ہوتا ہے اور وہ تیسری جماعت میں اتنا ذہین ہو گیا ہے کہ جس دن استاد میسر نہ ہو تو اس دن خود کلاس کو پڑھا بھی لیتا ہے۔

ابتدا میں بات ہوئی تھی، یہ اسکول انوکھا اسکول ہے۔ اس لیے نہیں کہ ستائیس سال سے سرکار سے دو کمروں کا طلب گار ہے۔ اس لیے نہیں کہ ستر، اسّی طلبا و طالبات کے لیے کوسوں دور کوئی اور اسکول نہیں۔ اس لیے نہیں کہ جس دن بارش ہو اسکول کیچڑ ہو جاتا ہے۔ یہ اسکول اس لیے انوکھا اسکول ہے کہ اس سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر گنڈی چوک ہے۔ جہاں سے سہیل آفریدی نے لانگ مارچ شروع کیا۔ اور جہاں سے وفاق پر حملے کی تیاری کی۔

ننھی حبیبہ اور متین اور ان جیسے درجنوں بچوں کو نہ عمران خان کی رہائی سے کوئی مطلب ہے نہ صوبے میں آپریشن سے غرض۔ ان کی طلب صرف ایک اسکول ہے جس کی عمارت بھی ہو۔ جس کے اخراجات صرف سرکاری فائلوں میں نہ ہوں۔ ایسا اسکول جو وجود بھی رکھتا ہو، جس کی چھت بھی ہو اور اس پر پنکھا بھی ہو۔ بس اس اسکول کے بچوں کا اتنا سا خواب ہے۔ جو ستائیس سال سے تعبیر نہ بن سکا۔

بدقسمتی سے کے پی حکومت نے حبیبہ اور متین جیسے ہونہار بچوں کو اپنے تیرہ سالہ دورِ حکومت میں سوائے نفرت کے درس کے کچھ نہیں دیا۔ نہ اسکول، نہ سکون، نہ علم، نہ شعور، نہ مواقع  نہ مستقبل۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp