کراچی کے علاقے منگھوپیر کے رہائشی ولی اللہ معروف پہلے فیس بک کا استعمال محض وقت گزاری کے لیے کیا کرتے تھے لیکن ایک دن ان کی والدہ نے انہیں ایک ایسا مشورہ دیا جس پر عمل کرکے وقت گزاری کا وہی پلیٹ فارم ان کے توسط سے سینکڑوں افراد کی راحت کا باعث بن گیا۔
ولی اللہ اپنی والدہ کے ساتھ گھر میں بیٹھے تھے اور بڑے انہماک سے فیس بک کی پوسٹس دیکھ رہے تھے کہ ان کی والدہ نے کہا کہ بیٹا اگر انٹرنیٹ استعمال کرنا ہی ہے تو اس کا کوئی مثبت استعمال ہی کرلو۔ پوچھنے پر والدہ نے توجہ دلائی کہ ان کے پڑوس میں ایک خاتون ہیں جو 37 سال قبل انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر بنگلہ دیش سے پاکستان پہنچ گئی تھیں تم ان کی تفصیل انٹرنیٹ پر ڈالو شاید ان کا کوئی رشتے دار رابطے میں آجائے اور وہ اپنے پیاروں سے جا ملیں۔
کیا فیس بک نے خاتون کو اپنے پیاروں سے ملوادیا؟
ولی اللہ معروف نے کہا کہ مجھے اپنی والدہ کی بات بھلی لگی اور میں نے اپنی ان پڑوسن کی معلومات فیس بک پر ڈال دیں جس کے 7 روز کے بعد ان خاتون کے اہل خانہ کا پتا چل گیا جو بنگلہ دیش میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد 2 سال کی تگ و دو کے بعد ان لوگوں نے خاتون کو بنگلہ دیش بھجوا دیا اور وہ 37 سال بعد اپنی والدہ و دیگر عزیزوں کے پاس پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: 20 سالہ فیس بک نے بچپن سے اب تک کیا کیا گل کھلائے؟
انہوں نے بتایا کہ ماں بیٹی کی ملاقات کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر ڈالی گئیں جنہں بڑی مقبولیت ملی اور اس کے بعد ملک بھر میں جتنی بھی ایسی خواتین تھیں ان کے لیے ہم امید کی ایک کرن بن گئے اور لوگ ہم سے رابطہ کرنے لگ گئے۔
بھارت سے بھی رابطے، فیملی ری یونین
ولی اللہ کہتے ہیں کہ بھارت سے بھی ایک خاتون نے ہم سے رابطہ کیا جس کے بعد جب ہم نے بچھڑوں کو ملوایا تو وہ ویڈیو بھی بہت وائرل ہوئی جس کے بعد بھارت سے ہی ایک اور خاتون نے رابطہ کیا۔ ان خاتون نے بتایاکہ ایک خاتون کو 43 سال قبل شادی کروا کر بھارت سے قطر بھجوایا گیا تھا جہاں سے وہ لوگ یمن منتقل ہوئے اور تب سے اس خاتون نے اپنے اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔
ولی اللہ کے مطابق ان کی کاوشوں اور یمن میں کچھ لوگوں کی مدد سے اس خاتون کا بھی پتا چل گیا اور اس کا رابطہ بھارت میں موجود اس کے رشتے داروں سے کروادیا گیا۔
اب تک کتنے بچھڑوں کو ملوا چکے ہیں؟
ولی اللہ معروف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک 150 سے زائد بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے پیاروں سے ملوایا ہے۔
مزید پڑھیے: فیس بک کی مالک کمپنی کا پاکستانی خواتین کے لیے بڑا اعلان، اسمال بزنس ٹریننگ پروگرام شروع
انہوں نے بتایا کہ ان میں زیادہ تعداد بنگلہ دیش سے ان خواتین کی ہے جو انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوئیں۔ علاوہ ازیں 7 کیس بھارت جبکہ ایک یمن کا ہے۔
ولی اللہ کہتے ہیں کہ اس سارے کام میں ان کی والدہ کی دعائیں اور دوست احباب کا ساتھ شامل ہے تاہم انہیں اس کے علاوہ کوئی سرپرستی یا مدد حاصل نہیں اوار سارا کام وہ خود کرتے ہیں۔
پہلی کامیابی کے بعد سب کا ردعمل
ان کا کہنا ہے کہ پہلی بنگلہ دیشی خاتون کو ان کے بچھڑوں سے ملوانے کے بعد ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ جسیے ہماری اپنی گمشدہ بہن برسوں بعد ہمیں واپس مل گئی ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس موقعے پر سب ہمیں مبارک باد دے رہے تھے اور سب بہت خوش تھے۔













