بنگلہ دیش: طلبا کا رخ اب اساتذہ کی جانب، نرسنگ کالج کے تمام ٹیچرز سے استعفے لے لیے

پیر 2 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے ساحلی تفریحی شہر کاکس بازار میں طلبہ نے نرسنگ اینڈ مڈوائفری کالج کے تمام اساتذہ کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق طلبا نے کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے پوری فیکلٹی کمیٹی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’سارا پھل ایک ٹوکری میں ڈال دیا‘ شیخ حسینہ واجد بھارت کے لیے درد سر بن گئیں

رپورٹ کے مطابق کالج میں طالبات کے اس مطالبے کے بعد سخت کشیدگی پیدا ہو گئی جس پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے5 اساتذہ اور 11 طلبا کو گرفتار کر لیا اور انہیں تقریباً 8 گھنٹے تک حراست میں رکھا۔

کاکس بازار صدر اسپتال کے 2  رہائشی میڈیکل افسران، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ساتھ ساتھ فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ارکان نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے طالبات سے تقریباً 3 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔

ان مذاکرات میں تمام اساتذہ نے مستعفی ہونے اور فوری طور پر کالج کے احاطے کو خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کے ارکان اب اس بحران سے نمٹنے کے لیے صدر اسپتال کے سپرنٹینڈینٹ کو باضابطہ طور پر رپورٹ کریں گے۔

مزید پڑھیے: بنگلہ دیش میں طلبا کے دباؤ پر چیف جسٹس کے علاوہ کن بڑے عہدیداروں نے استعفیٰ دیا؟

تحریک کوآرڈینیٹر عرمی اختر نے کہا کہ ہم نے کرپشن سے پاک کیمپس کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ پوری فیکلٹی بدعنوانی میں ملوث تھی اس لیے ہم نے ان کے استعفوں پر اصرار کیا۔

عربی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے مطالبات پورے ہو گئے ہیں لیکن ہماری تحریک ختم نہیں ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے بعد بنگلہ دیشی طلبا نے سیاسی جماعت بنانے کے لیے کمر کس لی

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اپنی سکیورٹی اور اساتذہ کی غیر حاضری کی فکر ہے کیوں کہ انہوں نے طلبا کے شدید احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے اور کالج اب بغیر کسی فیکلٹی ممبر کے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp