ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آخری دم تک لڑیں گے، ڈپٹی چیئرمین نیب

منگل 10 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا ہے کہ ہمیں بالخصوص نوجوانوں کو بحیثیت مجموعی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کے ساتھ روشن مستقبل کی تعمیر کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی اعلیٰ کارکردگی پر 3ڈائریکٹر جنرلز کو صدارتی ایوارڈ سے نوازنے کی سفارش

ڈپٹی چئیرمن نیب نے کہا کہ  زمانہ قدیم سے بدعنوانی مختلف اشکال میں موجود ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں 9دسمبر کو انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس ناسور کے خاتمے کے عزم کی تجدید کرنا اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر میں بدعنوانی کی روک تھام کے  لیے  اقدامات کیے جارہے ہیں

۔ڈپٹی چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ نیکی اور بدی کی جنگ ہے،قران کریم میں ارشاد ربانی ہے لوگوں کی امانتیں ان کے سپرد کردیں، حضرت محمدﷺ کا لقب صادق اور امین تھا،مشرک اور کافر بھی یہ گواہی دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’برین ڈرین مسئلہ نہیں بلکہ پیسہ ملک سے باہر جانا مسئلہ ہے‘، چیئرمین نیب تنقید کی زد میں

انہوں نے کہا کہ ہمیں دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرنی چاہیے، نوجوانوں کو مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، ہمیں بحیثیت مجموعی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔

ڈائریکٹر جنرل نیب، راولپنڈی مرزا محمد عرفان بیگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  بدعنوانی اعتماد کو مجروح کرتی ہے، ترقی کو روکتی ہے، اور عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی طرف سے دیا گیا اس سال کا عنوان ’بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کو متحد کرنا، کل کی ترقی کی ضمانت دینا ہے‘۔ مستقبل کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار پر زور دیتا ہے، جو کہ شفافیت اور احتساب سے منسلک ہے۔

سال 2023-24 میں شکایات کا ازالہ

 انہوں نے کہا کہ  24 ۔ 2023 کے دوران نیب راولپنڈی، اسلام آباد کو 55 ہزار 512 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 55 ہزار 488 شکایات کا ازالہ کیا جاچکا ہے۔ 19.26 ارب روپے کی ریکوری جاری ہے۔

 مزید برآں، محتلف کیسوں میں پکڑی جانے والی جائیدادوں کی مالیت 99.18 کروڑ روپے بنتی ہے، نیب راولپنڈی اسلام آباد کی ٹیم کی دن رات محنت کی وجہ سے مختلف پونزی سکیموں کے کیسز میں 6 ہزار 923 متاثرین کو لوٹی گئی رقم واپس کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کتنی اور کہاں سے ہوئی؟

مرزا محمد عرفان بیگ  نے کہا کہ نوجوان بدعنوانی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے امید کی کرن ہیں، ہم تبدیلی کے لیے نوجوانوں کے جذبہ حب الوطنی کو بروئے کار لاسکتے ہیں، نیب معاشرے کے تمام طبقات میں برابری کے رواج کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

’ایک نئی حکمت عملی کے طور پر ہم نے نوجوان رہنمائوں کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہوئے اخلاقی تعلیم کو فروغ دینے، مکالمے اور میدان عمل کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا ہے، جس کی زندہ مثال تعلیمی اداروں میں کردار سازی کی کمیٹیوں کی تشکیل ہے۔‘

’تعلیمی اداروں اور طلبا کو بدعنوانی کو مسترد کرنا چاہئے‘

انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے ذریعے، ہمارا مقصد نوجوان  جہاں کہیں بھی بدعنوانی کا سامنا کریں نا صرف اس کی نشاندہی کریں بلکہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول نیب کو اطلاع دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور طلبا کو بدعنوانی کو مسترد کرنا چاہئے ، شفافیت کی حمایت کرنی چاہئے اور معاشرے کی مجموعی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کی شمولیت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومتوں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور نجی شعبے کو متحد ہونا چاہیے۔ تعلیم اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مرزا محمد عرفان بیگ نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کے اصولوں کو نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں شامل کر کے ہم عام لوگوں میں صحت مند مقابلے اور ذمہ داری کی اقدار پیدا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اہم دن پر، میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے نیب کا ساتھ دیں۔ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائیں،  ہماری رہنمائی کریں اور زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ آپ کی آج کی ایک درست رکھی ہوئی اینٹ کل کی ایک شاندار عمارت کی صورت میں ظاہر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جہاد کر نے والوں کے لیے نیب کی خدمات ہر وقت حاضر ہیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ جو غلط کاموں اور اعمال کو بے نقاب کرے گا، ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بدعنوانی کے خلاف یہ سفر جلد ختم ہوگا۔

استقامت، ہمت اور اجتماعی ارادے کی ضرورت

ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کے لیے استقامت، ہمت اور اجتماعی ارادے کی ضرورت ہوتی ہے اورہم بحثیت قوم ان سب سے مالا مال ہیں، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن بھی بدعنوانی کو کم کرنے کی کنجی ہے، تمام اداروں سے درخواست ہے کہ وہ ڈیجیٹلائزیشن کرتے ہوئے خود احتسابی پر زور دیں۔

انہوں نے کہا کہ  ترقی و خوشحالی کے مشترکہ مشن کے عزم کی تجدید کریں۔ ہم سب مل کر قوم کا ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں، جو تمام برائیوں سے پاک ہو، جہاں یکساں مواقع اور میرٹ سب کے لیے دستیاب ہو، وسائل کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہو۔ جہاں انصاف سستا اور عام ہو۔

مرزا محمد عرفان بیگ کا کہنا تھا کہ آج کے نوجوان کل کے رہنما ہیں،ان کی دیانتداری اور محنت ترقی و خوشحالی کے راستے کا تعین کرے گی، آئیے ہم سب کرپشن کے خلاف متحد ہوں اور کل کے خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

کرپشن کے خاتمے کے لیے تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری

چئیرمین پاکستان سویٹ ہوم زمرد خان نے اپنے خطاب میں ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ ملک سے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ناگزیر ہے۔

نوجوانوں کو ہرقسم کی بدعنوانی سے دور رہنا چاہیے اور مثبت سوچ اختیار کرنی چاہیے۔نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ہر قسم کے پروپیکینڈے کو رد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب راولپنڈی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اربوں روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں،احتساب سب کے لیے پرعمل کرنے سے بدعنوانیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی۔نیب کو آگاہی مہم پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔

اس موقع پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نیب افسران کو ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس سے نوازاگیاجبکہ تقریری مقابلوں میں پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp