آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسان جیسی ذہانت کب تک حاصل کرلے گی، یہ ترقی کتنی تشویشناک ہے؟

پیر 7 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک نئے تحقیقی مقالے نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سنہ 2030 کے اوائل تک انسانی سطح کی ذہانت حاصل کرلے گی جو انسانیت کو مستقل طور پر تباہ بھی کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح  فریب دے سکتی ہے؟

تحقیی مقالے میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جسے آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس (اے جی آئی) کہتے ہیں انسانیت کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی شین لیگ نے یہ نہیں بتایا کہ اے جی آئی کس طرح بنی نوع انسان کے معدوم ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے ان احتیاطی تدابیر کی نشاندہی کی ہے جو گوگل اور دیگر اے آئی کمپنیوں کو اے جی آئی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اختیار کرنی چاہییں۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت میں نیا انقلاب: مکمل زندگی کی ساتھی روبوٹک گرل آریا

یہ مطالعہ جدید اے آئی کے خطرات کو 4 بڑے زمروں میں تقسیم کرتا ہے جن میں اے آئی کا غلط استعمال، غلط ترتیب، غلطیاں اور ساختی خطرات شامل ہیں۔ یہ تحقیق خطرے کو کم کرنے کی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو غلط استعمال کی روک تھام کے ارد گرد مرکوز ہے جہاں لوگ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے  اے آئی کا استعمال کر سکتے ہیں۔

فروری میں ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمس ہاسابیس نے بتایا تھا کہ اے جی آئی جو کہ انسانوں جتنی یا اس سے بھی زیادہ ہوشیار ہے، اگلے 5 یا 10 سالوں میں ابھرنا شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کو اے جی آئی کی ترقی کے عمل کی نگرانی کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ‘مصنوعی ذہانت سے خوفناک غربت پیدا ہو سکتی ہے’

“انہوں نے کہا کہ ایک ایسی بین الاقوامی تحقیق ہونی چاہیے جس میں اے جی آئی کی ترقی کی حدیں طے کی جائیں تاکہ اسے محفوظ تر بنایا جاسکے اور کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے۔

اے جی آئی کیا ہے؟

اے جی آئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آگے کی شکل ہے۔ یہ ایک ایسی مشین ہو گی جس میں بالکل انسانوں کی مانند علم کو سمجھنے، سیکھنے اور متنوع ڈومینز میں لاگو کرنے کی صلاحیت ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کی مدد کے الزام میں امریکا کی بھارتی جوڑے اور ترک کمپنی پر پابندیاں

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا