ایران کی مدد کے الزام میں امریکا کی بھارتی جوڑے اور ترک کمپنی پر پابندیاں

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے ایران کو تیل کی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے الزام میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے، ان کے کاروباری اداروں اور ترکی کی ایک کمپنی پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات ایران کے تیل کی غیر قانونی تجارت اور اس کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے نیٹ ورک کو روکنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

بھارت میں مقیم سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد کے علاوہ ان کے کاروبار سے منسلک 2 بھارتی شہریوں اور بھارت میں قائم 9 اداروں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ ان افراد اور اداروں نے جعلی بحری پرچم اور سرٹیفکیٹ جاری کرکے ایرانی تیل لے جانے والے پابندیوں کی زد میں موجود جہازوں کو عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کی۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق چند اداروں نے گیانا، ایسواتینی اور لاؤس سمیت مختلف ممالک کی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے جہازوں کی رجسٹریشن، ملاحوں کی تربیت اور بحری درجہ بندی سے متعلق جعلی خدمات فراہم کیں۔ ان جہازوں میں بعض ایران کی فوج اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے لیے بھی کام کررہے تھے۔

ترکی کی کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز کو بھی ایرانی فضائی شعبے کی معاونت کے الزام میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کی مدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا، خواہ ان کی سرگرمیاں زمین، سمندر یا فضا میں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے تیل کی تجارت: امریکا نے بھارت کی 2 کمپنیوں اور 5 بھارتی شہریوں پر پابندیاں عائد کردیں

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp