امریکا نے ایران کو تیل کی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے الزام میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے، ان کے کاروباری اداروں اور ترکی کی ایک کمپنی پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات ایران کے تیل کی غیر قانونی تجارت اور اس کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کے نیٹ ورک کو روکنے کی مہم کا حصہ ہیں۔
بھارت میں مقیم سنیل کمار شرما اور ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد کے علاوہ ان کے کاروبار سے منسلک 2 بھارتی شہریوں اور بھارت میں قائم 9 اداروں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ ان افراد اور اداروں نے جعلی بحری پرچم اور سرٹیفکیٹ جاری کرکے ایرانی تیل لے جانے والے پابندیوں کی زد میں موجود جہازوں کو عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کی۔
Today, as part of Operation Economic Outcast, Treasury targeted the vast criminal network of India-based Suniel Kumar Sharma and his spouse, Jaspreet Preeti Shahid, who have supported Iran’s shadow fleet through a web maritime fraud. Their schemes have provided false flags and…
— Treasury Department (@USTreasury) November 4, 2026
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق چند اداروں نے گیانا، ایسواتینی اور لاؤس سمیت مختلف ممالک کی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے جہازوں کی رجسٹریشن، ملاحوں کی تربیت اور بحری درجہ بندی سے متعلق جعلی خدمات فراہم کیں۔ ان جہازوں میں بعض ایران کی فوج اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے لیے بھی کام کررہے تھے۔
ترکی کی کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز کو بھی ایرانی فضائی شعبے کی معاونت کے الزام میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کی مدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا، خواہ ان کی سرگرمیاں زمین، سمندر یا فضا میں ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے تیل کی تجارت: امریکا نے بھارت کی 2 کمپنیوں اور 5 بھارتی شہریوں پر پابندیاں عائد کردیں
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔










