وسط ایشیائی ملک تاجکستان میں زلزلہ، شدت 5.9 ریکارڈ

اتوار 13 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وسط ایشائی ملک تاجکستان میں آج صبح زوردار سے آیا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:میانمار زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی، 500 مسلمان بھی شامل

شدید زلزلے کے جھٹکوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ خوف کے عالم میں گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق تاحال تاجکستان میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

یورپی زلزلہ پیما مرکز کے زلزلے کا مرکز سطح زمین سے 16 کلومیٹر کی گہرائی میں تھام جبکہ زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

پنجاب میں راولپنڈی، اٹک، چنیوٹ، چکوال، میانوالی اور گردونواح میں علاوہ پشاور، مردار، مہمند اور شبقدر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے لکی مروت، نوشہرہ، صوابی، لوئر دیر اور مالا کنڈ میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

پی ایم ڈی اسلام آباد کے مطابق 12:31 پرآنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 تھی، جب کہ اس کا مرکز راولپنڈی سے 60 کلومیٹر شمالی مغرب میں تھا۔پی ایم ڈی اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی زیر زمین گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

صرف ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں، وفاقی آئینی عدالت نے 6 اصول طے کردیے

اسرائیل کی سالانہ 4 ارب ڈالر امداد بند کرنے کا اعلان بھی ٹرمپ کو شکست سے بچا نہ سکا

امریکی اطلاع پر ماسکو میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں نو عمر لڑکا گرفتار

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا