افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ابرار حسین شاہ نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ بیان سے بظاہر یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے افغان طالبان رجیم کو وارننگ دی ہے کہ وہ جلد از جلد وہاں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف ایکشن لے۔ اس سے قبل باہمی ملاقاتوں، ملٹی لیٹرل فورمز اور پبلک میڈیا کے ذریعے بھی اُن سے مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہاں وہ دہشتگرد جو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے منصوبے بناتے اور ان پر عمل کرتے ہیں ان کے خلاف ایکش لیا جائے۔ پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سید ابرار حسین شاہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں، طالبان حکومت کے پاس کارروائی نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان افغانستان کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے: اسحاق ڈار کا افغان وزیر خارجہ کو ٹیلیفون
انہوں نے کہاکہ افغان عوام پاکستان کو دوسرا گھر سمجھتے ہیں، 50 ہزار افغان ڈاکٹرز، بیوروکریٹس، آفیسرز سب پاکستانی جامعات کے فارغ التحصیل ہیں، دو دہائیوں کے بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان کے لیے مثبت جذبات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات دور کرنے کے لیے دہشتگرد گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرنا ہوگی، بصورت دیگر پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا پڑیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا مقصد افغان عوام یا افغان حکومت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کا خاتمہ ہے۔
ابرار حسین شاہ نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت میں واپسی کے وقت پاکستان کو توقع تھی کہ وہ ماضی میں پاکستان کی حمایت اور افغان عوام کے لیے اس کی طویل میزبانی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھیں گے، تاہم بدقسمتی سے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں کی حمایت کا سلسلہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد دوطرفہ ملاقاتوں، کثیرالجہتی اجلاسوں اور سفارتی ذرائع سے افغان طالبان پر واضح کیا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کررہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن بار بار مطالبات کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی، کیونکہ وہ ہمیشہ ان باتوں کی تردید کرتے ہیں۔
’پاکستان نے افغان طالبان اور عوام کی طویل عرصے تک حمایت کی‘
سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران افغان عوام اور افغان طالبان دونوں کی مدد کی۔ تقریباً 50 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی گئی، ان کے بچوں کو پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا اور افغان شہریوں نے پاکستان کی صحت کی سہولیات سے بھی استفادہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں اسپتال، اسکول اور سڑکیں تعمیر کیں، مختلف شعبوں میں اقتصادی امداد فراہم کی، تعلیمی وظائف دیے اور افغان حکام کی تربیت کے لیے بھی اقدامات کیے۔
’جب افغانستان میں سوویت افواج اور بعدازاں امریکی و نیٹو افواج موجود تھیں تو طالبان سمیت بڑی تعداد میں افغان شہریوں نے پاکستان میں پناہ حاصل کی۔ پاکستان نے ہمیشہ ان کی میزبانی کی، اس لیے یہ توقع غیر معمولی نہیں تھی کہ طالبان حکومت میں آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کریں گے۔‘
ابرار حسین شاہ کے مطابق امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی اقتدار میں واپسی پر پاکستان میں بھی خوشی اور کامیابی کا احساس پایا جاتا تھا، لیکن بعد ازاں طالبان حکومت نے ان عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور اسے غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
’پاکستان کی کارروائی افغان عوام کے خلاف نہیں، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا‘
سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان نے جب سفارتی کوششوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے تو افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ کارروائی افغانستان، افغان عوام یا افغان حکومت کے خلاف نہیں تھی بلکہ ان دہشتگردوں کے خلاف تھی جو افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق افغان طالبان حکومت نے ان کارروائیوں کو اپنے خلاف حملہ تصور کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرحدی حملے کیے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں سے روکنے کے لیے تیار نہیں۔
’اگر افغان حکومت دہشتگردی کے خلاف کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسے پاکستان یا خطے کے دیگر ممالک سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ روس، چین، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک دہشتگردی کے خلاف تعاون کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔‘
’مارکو روبیو کا بیان پاکستان کے مؤقف کی اہمیت کا اعتراف ہے‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان، کہ امریکا افغانستان سے متعلق پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات سے آگاہ ہے، کو اہم قرار دیتے ہوئے ابرار حسین شاہ نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے اس نوعیت کا واضح بیان پہلے سامنے نہیں آیا تھا۔
ان کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور اس حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو تسلیم کیا ہے اور پاکستان کے مؤقف کو اہمیت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو بھی افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے تشویش لاحق ہے، کیونکہ یہ عناصر پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
’داعش خراسان کے خلاف طالبان اور روس کے ممکنہ تعاون کی وجہ‘
ماسکو فارمیٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے اور مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کیے جانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر نے کہا کہ افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ متعدد دہشتگرد اور عسکریت پسند گروہ موجود ہیں، جن میں داعش خراسان، القاعدہ کے باقی ماندہ عناصر، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور انصار اللہ جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض گروہ مخصوص ممالک کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ داعش خراسان پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ممکن ہے روس افغان طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں اس پہلو کو بھی مدنظر رکھ رہا ہو کہ طالبان کو داعش کے خلاف کارروائی کے لیے مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ چین، پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے افغان طالبان کے ساتھ سفارتی روابط قائم کیے، تاہم روس نے ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا۔ ہر ملک کی اپنی سفارتی اور سیکیورٹی حکمت عملی ہوتی ہے، جس کے تمام پہلوؤں کا باہر بیٹھ کر اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
’مذاکرات کے لیے کسی بھی مؤثر پلیٹ فارم پر پاکستان تیار‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ممکنہ بیک چینل سفارت کاری سے متعلق سوال پر سابق سفیر نے کہا کہ انہیں ایسے کسی رابطے یا مذاکرات کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک کسی ایسے ثالث یا پلیٹ فارم پر متفق ہو جائیں جس کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ماضی میں قطر، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار افغان طالبان کی اس بنیادی آمادگی پر ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔ پاکستان کا مطالبہ صرف یقین دہانیوں یا بیانات تک محدود نہیں بلکہ ایسے اقدامات کا ہے جن کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکے۔
ان کے مطابق جب افغانستان دہشتگردی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جائے تو اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
’افغان طالبان کو اپنے عوام اور معیشت کی مشکلات کا احساس ہونا چاہیے‘
سفیر ابرار حسین شاہ نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات میں کبھی مفاہمت کا تاثر ملتا ہے اور کبھی سخت مؤقف سامنے آتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ افغان حکومت اپنے عوام اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات کا کتنا احساس رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سرحد کی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں تعطل سے افغان تاجروں، مسافروں اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ تجارتی راستے طویل اور مہنگے ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سرحدی بندش کے باوجود اقوام متحدہ کی انسانی امداد افغانستان پہنچانے کے لیے راستہ فراہم کیا اور سینکڑوں امدادی کنٹینرز کو گزرنے کی اجازت دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ صرف ان دہشتگرد عناصر کے خلاف اقدامات کررہا ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
’بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے‘
بھارتی تجزیہ کار کی جانب سے افغان طالبان کو میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تجویز پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر نے کہا کہ بھارت معرکۂ حق میں شکست کے بعد افغانستان کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق افغانستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی ایک اہم وجہ پاکستان کو مغربی سرحد کی جانب سے دباؤ میں رکھنا رہی ہے۔ انہوں نے اس حکمت عملی کو چانکیہ ڈاکٹرائن سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس سوچ کے تحت پڑوسی کے پڑوسی کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد سے مختلف ادوار میں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ وہ افغانستان کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔
’2 دہائیوں کے بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود افغان عوام پاکستان کے قریب ہیں‘
بطور سفیر افغانستان میں تعیناتی کے دوران افغان عوام کے پاکستان کے بارے میں جذبات پر بات کرتے ہوئے ابرار حسین شاہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی، سماجی اور معاشی اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں، تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان میڈیا کے بعض اداروں اور پاکستان مخالف آوازوں کو بھارتی سرپرستی اور مالی معاونت حاصل رہی، جبکہ پاکستان کے افغانستان میں تعمیراتی اور اقتصادی منصوبوں کو مناسب طور پر اجاگر نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے سلمہ ڈیم اور افغان پارلیمنٹ کی عمارت جیسے منصوبوں کو نمایاں کیا، لیکن پاکستان کی جانب سے تعمیر کیے گئے اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو وہ تشہیر نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔
سابق سفیر کے مطابق اس پروپیگنڈے کے باوجود افغان عوام پاکستان کے ساتھ تجارت، تعلیم اور علاج معالجے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تقریباً 50 ہزار افغان شہری پاکستانی جامعات سے فارغ التحصیل ہیں، جن میں سیاست دان، بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیدار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک وقت میں تقریباً 5 لاکھ افغان بچے پاکستانی اسکولوں میں زیر تعلیم تھے، جبکہ سرحد پار سے بھی افغان طلبہ روزانہ تعلیم حاصل کرنے پاکستان آتے تھے۔
ان کے بقول افغان شہری پاکستان کو محض ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور آج بھی بڑی تعداد میں لوگ تعلیم، کاروبار اور علاج کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔
’افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اور انٹیلی جنس اداروں کا کردار‘
سابق سفیر نے اپنے سفارتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ افغانستان کی سابق حکومتوں کے دور میں بھارتی اثرورسوخ بہت زیادہ تھا۔
ان کے مطابق وہ جب کابل میں سفیر تھے تو تقریباً ہر افغان وزارت میں بھارتی مشیر موجود تھے، یہاں تک کہ افغان انٹیلی جنس ادارے میں بھی بھارتی مشیر کام کر رہے تھے۔
انہوں نے افغان انٹیلی جنس کے سابق ادارے خاد اور بعدازاں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ ادارے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیرِ اثر تھے اور پاکستان کے خلاف مختلف اقدامات کے لیے مشاورت فراہم کی جاتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے باوجود افغان معاشرے میں پاکستان کے لیے مثبت جذبات رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔
’مذاکرات کا راستہ افغان طالبان کے عملی اقدامات سے کھلے گا‘
سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بنیادی مسئلے کا حل ضروری ہے۔ اگر افغان طالبان دہشتگردوں کی موجودگی تسلیم کرنے اور ان کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان مسئلہ افغانستان کے قابل قبول اور دوستانہ حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، عطا اللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ سے پہلے کابل میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ہونے والے سہ فریقی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ بھی اسی وجہ سے جاری نہیں ہو سکا تھا کہ افغان فریق دہشتگرد گروہوں کا ذکر کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
ابرار حسین شاہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری کا انحصار افغان طالبان رجیم پر ہے کہ وہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کرتی ہے یا نہیں۔










