لیبیا کے پانیوں میں ایک اور کشتی حادثہ، ڈوبنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

بدھ 16 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش میں لیبیا کے پانیوں میں تارکین کی ایک ایک اور کشتی ڈوبنے سے 4 پاکستانیوں سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:لیبیا کشتی حادثہ 2023: انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر گوجرانولہ سے گرفتار

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ نے مرنے والے پاکستانیوں میں سے ایک نوجوان کا تعلق گوجرانوالہ اور 3 منڈی بہاالدین سے ہے۔

وفاقی تحقیقات ادارے کے مطابق کشتی ڈوبنے کا واقعہ 12 اور 13 اپریل کی درمیانی شب پیش آیا۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ کا زاہد محمود 7 اکتوبر 2022 کو لاہور سے، گجرات کا رہائشی سمیر علی 13 جون 2023 کو ملتان سے سیدعلی 30 ستمبر 2024 کو کوئٹہ سے یو اے ای پہنچا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مراکش کشتی حادثہ، 13 ہلاک پاکستانیوں کی شناخت مکمل

حادثے کا شکار چوتھا پاکستانی، منڈی بہاالدین کا ہی آصف علی 8 جنوری 2022 کو کراچی سے لیبیا پہنچا تھا۔

ایف آئی اے نے اس حوالے سے انسانی اسمگلرز کے خلاف مقدمات کے اندراج کا عندیہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا