جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 2026 کے انتخابی نتائج پر غیر معمولی تبصرہ کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ووٹرز کی کم ٹرن آؤٹ کے بجائے جنگ، مہنگائی اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی کو قرار دے دیا ہے۔

جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے بڑی تعداد میں شہری 2026 میں ڈیموکریٹس کے حق میں کھڑے ہوئے، کیونکہ وہ جنگ کے خاتمے اور امریکا کی ترجیحات میں تبدیلی چاہتے تھے۔

جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے تفصیلی بیان میں انکشاف کیا کہ ریپبلکن انتخابی ٹیم کے ڈیٹا تجزیہ کاروں نے انتخابات سے قبل ووٹرز کی تعداد اور ان کی سیاسی وابستگی کا جائزہ لیتے ہوئے پارٹی کے لیے مثبت امکانات ظاہر کیے تھے، تاہم اعداد و شمار کے پیچھے چھپی سیاسی ناراضی کو بروقت سمجھنے میں ناکامی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت سے گریز، جے ڈی وینس کا اہم بیان سامنے آگیا

ان کے مطابق انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ ریپبلکن ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز تک پہنچے، لیکن ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی ہی جماعت کے امیدواروں کے بجائے ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔

وینس نے واضح کیا کہ شکست کی اصل وجہ ووٹرز کا گھروں میں بیٹھے رہنا نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی ناراضی تھی۔

انتخابی ٹیم کو ٹرن آؤٹ پر اطمینان، مگر ووٹرز کی ناراضی کا اندازہ درست نہ ہو سکا

جے ڈی وینس نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران ان کی ٹیم کے ڈیٹا تجزیہ کاروں کی توجہ کا ایک اہم مرکز ’کمپوزیشن‘ تھا، یعنی یہ جانچنا کہ ووٹ ڈالنے والے افراد کی سیاسی اور انتخابی ساخت 2024 کے صدارتی انتخابات سے کتنی مماثلت رکھتی ہے اور آیا یہ تناسب ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کے لیے کافی ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق بعض انتخابی جائزوں اور سرویز میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی کی پیش گوئی کی جا رہی تھی، لیکن ان کی ٹیم کو ملنے والے اعداد و شمار مسلسل ایک مختلف تصویر پیش کر رہے تھے۔

کچھ ریاستوں میں ووٹرز کی شرکت معمول کے مطابق تھی، بعض ریاستوں میں ٹرن آؤٹ غیر معمولی طور پر شاندار رہا، جبکہ کسی بھی ریاست میں ووٹرز کی شرکت اس حد تک کم نہیں ہوئی تھی کہ اسے تباہ کن قرار دیا جا سکے۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کی انتخابی ٹیم میں اس حوالے سے حقیقی امید پائی جاتی تھی کہ ریپبلکن ووٹرز بڑی تعداد میں باہر نکل رہے ہیں اور اپنی جماعت کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ایک انتہائی ذہین ڈیٹا ماہر سے براہ راست سوال کیا کہ کیا ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی انتخابات میں غیر متوقع کامیابی حاصل کرکے دنیا کو حیران کر دے گی؟

ڈیٹا ماہر نے جواب دیا کہ ایسا ہونا یقینی نہیں، البتہ پارٹی پولز میں ظاہر کیے گئے نتائج سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ اس نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے ریپبلکن ووٹرز کی بڑی تعداد ناراض ہے اور اب مخالف جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران کی جوہری افزودگی میں کمی جنگ کے خاتمے کی شرط ہے، جے ڈی وینس

اس ماہر کے مطابق اصل مسئلہ یہ تھا کہ پارٹی کے حامی ووٹ ڈالنے کے لیے تو آ رہے تھے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ریپبلکن امیدواروں ہی کے حق میں ووٹ دیں۔

وینس کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج نے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا اور یہ پیشگوئی اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔

فلوریڈا میں ریپبلکن ووٹرز کی برتری کے باوجود شکست کا سامنا

جے ڈی وینس نے فلوریڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انتخابی میدان میں ووٹرز کی مجموعی ساخت ریپبلکن پارٹی کے حق میں تھی۔

ان کے مطابق فلوریڈا میں ووٹرز کا تناسب ڈیموکریٹس کے مقابلے میں 9 پوائنٹس زیادہ ریپبلکن تھا، جو 2024 کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں محض چند پوائنٹس کم تھا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں ریپبلکن پارٹی ووٹرز کو زیادہ مؤثر انداز میں متحرک کر سکتی تھی اور انتخابی مہم کے دوران ٹرن آؤٹ بہتر بنانے کی گنجائش موجود تھی، تاہم ان کے نزدیک شکست کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی۔

جے ڈی وینس کے بقول اصل مسئلہ یہ تھا کہ 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کو ووٹ دینے والے متعدد شہریوں نے 2026 میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ریپبلکن پارٹی کے اندر انتخابی شکست کی وجوہات پر شدید بحث، اختلافات اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہوگا، لیکن اس بحث میں بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

مہنگائی کا بیانیہ کمزور رہا، مگر اصل نقصان جنگ کی پالیسی نے پہنچایا

جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں معاشی مسائل اور عوام کو درپیش مہنگائی کے حوالے سے پارٹی کا پیغام زیادہ مؤثر اور واضح نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ایسے پولسٹر نے بھی اس بات کی نشاندہی کی جس کی سیاسی تجزیوں کے حوالے سے وہ بہت قدر کرتے ہیں۔

تاہم وینس کے مطابق انتخابی شکست کی اصل وجہ صرف معاشی پیغام کی کمزوری نہیں تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا مسئلہ موجود تھا، جسے وہ سیاسی حلقوں میں تقریباً ہر شخص کے لیے واضح سمجھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک دوسرے پولسٹر، جنہیں وہ سیاست کے ذہین ترین افراد میں شمار کرتے ہیں، نے انتخابات سے ایک روز قبل یعنی پیر کو انہیں آگاہ کیا تھا کہ ریپبلکن پارٹی ممکنہ طور پر ملک گیر سطح پر جنرل بیلٹ میں ڈیموکریٹس سے 13 پوائنٹس پیچھے رہے گی۔

جے ڈی وینس کے مطابق وہ خود بھی منگل کے انتخابات سے قبل پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں تھے، لیکن نتائج سامنے آنے کے بعد انہیں بھی شدید حیرت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:کامیابیوں کا کریڈٹ لینے پر ممدانی کا جے ڈی وینس کو طنزیہ جواب وائرل

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پولسٹر کے سروے میں واضح طور پر سامنے آیا تھا کہ 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے متعدد شہری ناراض ہیں اور ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ناراض ووٹرز کی واپسی کے لیے 4 بنیادی مطالبات سامنے آ گئے

جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ مذکورہ پولسٹر نے ان ووٹرز سے براہ راست سوال کیا تھا کہ اگر وہ ریپبلکن پارٹی کو چھوڑ کر ڈیموکریٹس کی حمایت کر رہے ہیں تو کون سے اقدامات انہیں دوبارہ ریپبلکن جماعت کی طرف واپس لا سکتے ہیں؟

جے ڈی وینس کے مطابق اس سوال کے جواب میں 4 بنیادی مطالبات سامنے آئے، جنہوں نے ناراض ووٹرز کی ترجیحات اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق ان کے تحفظات کو واضح کر دیا۔

ان مطالبات میں تقریباً تمام جوابات کا احاطہ درج ذیل 4 نکات میں ہوتا تھا کہ ووٹرز کا سب سے اہم مطالبہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ امریکا جنگی تنازع سے نکلنے کے لیے اقدامات کرے۔

دوسرے نمبر پر شہریوں کا مطالبہ تھا کہ حکومت اپنی توجہ مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حل پر مرکوز کرے۔

تیسرے نمبر پر ووٹرز چاہتے تھے کہ حکومت امریکی مفادات کو اولین ترجیح دے اور خارجہ پالیسی سمیت تمام اہم فیصلوں میں امریکا کے قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔

چوتھے نمبر پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ تھا، ووٹرز نے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات اور اس حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ مذکورہ پولسٹر نے انتخابی نتائج کی درست پیش گوئی کی تھی اور اس کے سروے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ریپبلکن پارٹی کے سابق حامیوں کی ناراضی محض وقتی یا معمولی نہیں تھی، بلکہ اس کی بنیاد حکومت کی جنگی، معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر تھی۔

ان کے مطابق یہی 4 مطالبات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹرز نے بڑی تعداد میں پولنگ میں حصہ لینے کے باوجود ڈیموکریٹس کے امیدواروں کو ووٹ کیوں دیا۔

ریچل کیمپوس ڈفی کے سفارتی حل کے مطالبے کی حمایت

جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں ریچل کیمپوس ڈفی کا بھی خصوصی ذکر کیا، جنہیں پیر کو جنگ کے معاملے پر سفارتی حل کی حمایت کرنے کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جے ڈی وینس کے مطابق جب متعدد افراد پیر کو ریچل کیمپوس ڈفی کو اس مؤقف پر تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے کہ جنگ کا خاتمہ سفارتی ذرائع سے ہونا چاہیے، تو اب انتخابی نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا سیاسی مشورہ درست تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکی خارجہ پالیسی پر دباؤ بڑھنے کا امکان

انہوں نے ریچل کیمپوس ڈفی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین انسان بھی ہیں۔

جے ڈی وینس کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جنگ کے معاملے پر سخت گیر مؤقف اختیار کرنے کے بجائے سفارتی حل کی حمایت نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ داخلی سیاست اور انتخابی کامیابی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کے نام پر عام معافی کی مخالفت

جے ڈی وینس نے انتخابی شکست کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر ہونے والی ممکنہ بحث کے حوالے سے امیگریشن پالیسی کا معاملہ بھی اٹھایا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے چند ماہ کے دوران سیاسی حلقوں میں مختلف بیانیے سامنے آئیں گے اور بعض روایتی یا اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ موجودہ انتخابی مشکلات کا حل غیر قانونی تارکین وطن کو عام معافی دینا ہے۔

وینس نے کہا کہ وہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے امکان کو مسترد نہیں کرتے۔

ان کے مطابق حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے والے کاروباری اداروں اور کمپنیوں کے خلاف زیادہ مؤثر کارروائی کرکے قانون نافذ کرنے کی حکمت عملی تبدیل کر سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو عام معافی دینے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس اقدام کو موجودہ سیاسی مشکلات کا حل قرار دے رہے ہیں، وہ عوام سے سچ نہیں بول رہے۔

جے ڈی وینس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ جنگ ہے، اور اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر پارٹی اپنی سیاسی مشکلات کا درست تجزیہ نہیں کر سکتی۔

جے ڈی وینس کا دعویٰ، صدر نے بھی جنگ کو شکست کی وجہ قرار دیا

جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں امریکی صدر کے گزشتہ شب کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی جنگ کو انتخابی شکست کی وجہ قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق اب اس حقیقت سے انکار کرنے یا انتخابی نتائج کی مختلف توجیہات پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ووٹرز کی ناراضی اور انتخابی اعداد و شمار دونوں ایک ہی سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

جے ڈی وینس نے سیاسی مخالفین اور پارٹی کے اندر موجود ان افراد کو براہ راست مخاطب کیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ درست تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ مؤقف رکھتا ہے کہ جنگ جاری رکھنا اس قیمت کے مقابلے میں فائدہ مند تھا جو ریپبلکن پارٹی کو ادا کرنا پڑی، تو اسے کھل کر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

ان کے بقول اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جنگ کی وجہ سے اگلے 6 سال کے لیے سینیٹ کا کنٹرول کھونا ایک قابل قبول سیاسی قیمت تھی تو اسے اس فیصلے کا دفاع کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، ٹرمپ کا نتائج قبول کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا اعلان

جے ڈی وینس نے زور دیا کہ اس معاملے پر اختلاف رائے اپنی جگہ، لیکن کم از کم یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پارٹی کو کس وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔

ان کے مطابق مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور پارٹی کی اصلاح سے متعلق کوئی بھی سنجیدہ گفتگو اسی حقیقت سے شروع ہونی چاہیے کہ جنگ نے ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز کو اس سے دور کر دیا۔

ناراض ووٹرز کو وینس کا پیغام، آپ درست تھے، اب اپنی سوچ کے نمائندے منتخب کریں

جے ڈی وینس نے اپنے بیان کے اختتام پر ان ووٹرز کو بھی مخاطب کیا جو پہلے ہی حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور اب انتخابی نتائج کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے پہلے ہی اس صورت حال سے خبردار کر دیا تھا۔ انہوں نے ایسے افراد سے کہا کہ وہ درست تھے ۔

جے ڈی وینس نے ان ووٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنی ناراضی اور سیاسی توانائی کو مستقبل میں ایسے ریپبلکن امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے استعمال کریں جو ان کے نظریات، ترجیحات اور سیاسی مؤقف کی حقیقی نمائندگی کرتے ہوں۔

انہوں نے ان شہریوں کو بھی مخاطب کیا جو انتخابی نتائج سے محض مایوس یا ناراض ہیں اور کہا کہ ان کا ناراض ہونا بجا ہے۔

ان کے مطابق اس غصے کو محض سیاسی بحث اور باہمی الزامات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ملک کی بہتری اور سیاسی اصلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ اب بھی امریکا کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں اور انہیں یقین ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال سے سبق سیکھ کر ملک کے لیے بہتر راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ انتخابی شکست سے پیدا ہونے والی ناراضی کو ملک کو بچانے اور اس کے مستقبل کے لیے عملی جدوجہد میں تبدیل کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

غزہ میں زخمیوں کا علاج کرنے والے سرجن آدم حموی امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا