خیبر پختونخوا مائنز بل، پی ٹی آئی کمیٹی کے اعتراضات، علی امین گنڈاپور تنہا رہ گئے؟

پیر 5 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل پر  پی ٹی آئی کمیٹی نے سوالات اٹھا دیے  ہیں، اور اس بل کو 6 ماہ تک موخر کرنے کی سفارش کی ہے۔ ایسے میں یہ سوال زبان زدعام ہے کہ کیا اس معاملے پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور تنہا رہ گئے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی پارلیمانی کمیٹی نے مجوزہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 پر سوالات اٹھا کر بل کو فوری طور پر اسمبلی میں نہ لانے اور 6 ماہ تک موخر کرکے اس میں شامل خامیوں اور غیر آئینی شقوں کو نکالنے کی سفارش کر دی ہے۔

3 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پارٹی کے مرکزی چیئرمین اور جنرل سیکریٹری کو پیش کر دی، جس کی کمیٹی نے تصدیق کی ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی مجوزہ ایکٹ کے حوالے سے پارٹی کے اندر بے چینی اور اختلافات کے باعث بنائی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری اور رکن قومی اسمبلی علی اصغر اس کے سربراہ تھے، جبکہ پشاور سے رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی اور سوات سے ایم این اے ڈاکٹر امجد علی خان اس کے ممبر تھے۔

رائے سازی اور مشاورت کی سفارش

کمیٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی علی اصغر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ چیئرمین اور جنرل سیکریٹری کو پیش کی ہے۔ علی اصغر نے بتایا کہ کمیٹی ممبران نے مجوزہ ایکٹ کو غور سے پڑھا اور اس کی بعض شقوں پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ بل میں شامل خامیوں کو دور کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ رپورٹ پر عمل درآمد قیادت کا کام ہے۔

رپورٹ کے بارے میں پارٹی کے ایک دوسرے سینئر رہنما نے بتایا کہ رپورٹ میں وہ سب کچھ شامل ہے جس کا اظہار پی ٹی آئی کے اراکین کر رہے تھے اور جس کی بنیاد پر وہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پارٹی کو ضرور مشورہ دیا ہے کہ بل کو جلد بازی میں پاس نہ کیا جائے اور اس پر مشاورت کی جائے۔

رپورٹ میں لکھا ہے کہ بل کی بعض شقیں صوبائی خود مختاری کے خلاف ہیں اور وفاق اور بعض اداروں کو مداخلت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ کم از کم 6 ماہ تک اس کو اسمبلی میں نہ لایا جائے اور اس دوران اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور عوامی رائے سازی پر کام ہونا چاہیے۔

صوبائی وسائل پر قبضہ

3 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے بل کو پڑھ کر پایا کہ مائنز اینڈ منرلز بل معدنی وسائل پر وفاق کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے، جو آئین کی خلاف ورزی ہے اور  اس کا مقصد عوام کو ان کے وسائل سے محروم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے رپورٹ میں ’مائنز انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن اتھارٹی‘ کے قیام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بل صوبائی حکومت کے اختیارات کو کم کرتا ہے، یہ اختیارات غیر منتخب افراد کو دیدیے جائیں گے۔ رپورٹ میں شق 64(1) پر زیادہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس میں نجی معاہدوں کو عوامی قانون پر فوقیت دی گئی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ شق معدنی معاہدوں میں شفافیت، احتساب اور نگرانی کو ختم کرتی ہے۔

‘مجوزہ بل معدنی وسائل پر کنٹرول ہے’

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مجوزہ ایکٹ کا مقصد صوبے کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس سے چھوٹے اور مقامی کان کن اس میں حصہ نہیں لے سکیں گے جبکہ بااثر اور سیاسی افراد کو فائدہ ہوگا۔

کمیٹی نے رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ ’مائنز اینڈ منرلز فورس‘ بنانے کی کیا ضرورت ہے، جو عدالتی نگرانی کے بغیر چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ فورس مستقبل میں اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ اس بل میں رائلٹی کی ادائیگی، پیداوار کی نگرانی، یا آمدنی کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی واضح طریقہ موجود نہیں ہے۔ چھوٹے اضلاع اور مقامی کان کنوں کے لیے بھی کوئی فنڈ قائم نہیں کیا گیا۔

بل پر کیا علی امین گنڈاپور مشکل میں پھنس گئے؟

پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے مجوزہ ایکٹ پر اعتراضات اور سوالات سے بھرپور رپورٹ کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور مشکل میں پھنس گئے ہیں، جو ہر حال میں بل پاس کروانا چاہتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق علی امین نے کابینہ میٹنگ میں کسی کو بل پر بات کرنے نہیں دی تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ بل اسمبلی سے پاس ہو جائے۔ تاہم، شکیل خان نے اسمبلی کے فلور پر مخالفت کر کے مشکلات پیدا کر دیں۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں گے اور بل پر ان کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک بل پر عمران خان کو تفصیلی بریفنگ نہیں دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟