پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کی جیلوں کو جدید اور اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات نے محکمہ داخلہ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں جیل اصلاحات کے مختلف منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سیف جیلز پراجیکٹ کے پہلے فیز کی تکمیل کی ڈیڈ لائن کا اعلان کیا گیا، جبکہ قیدیوں کی آن لائن ملاقات کی سہولت کے لیے نئی ’ملاقات ایپ‘ کی کامیابی اور جیل انڈسٹریز کی ترقی پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ یہ اقدامات پنجاب حکومت کی جیل ریفارمز کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو قیدیوں کی اصلاح، شفافیت اور سہولیات کی فراہمی پر مبنی ہیں۔

مزید پڑھیں:بل گیٹس نے جیفری ایپسٹین سے تعلق کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیدیا، فاؤنڈیشن عملے سے معذرت

ملاقات ایپ قیدیوں کی آن لائن ملاقات کی انقلابی سہولت

جیل اصلاحات کے تحت ایک اہم پیشرفت قیدیوں کی اہلِخانہ سے ملاقات کے لیے ’ملاقات ایپ‘ کا اجرا ہے، جو شہریوں کو گھر بیٹھے آن لائن بکنگ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ ایپ مختصر وقت میں ہزاروں افراد کو مستفید کر چکی ہے، اور اب پنجاب بھر کی جیلوں میں ملاقات کی بکنگ ممکن ہے۔

ایپ کی تفصیلات کے مطابق، صارفین کو موبائل ایپ یا ویب سائٹ کے ذریعے لاگ ان کرکے قیدی کا نام، جیل کا مقام اور مطلوبہ تاریخ منتخب کرنا ہوتی ہے۔ بکنگ کی تصدیق کے بعد، ملاقات کا شیڈول ای میل یا ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہوتا ہے، جو روایتی لمبی قطاروں اور کاغذی کارروائی کو ختم کرتا ہے۔

یہ سسٹم کورونا میں متعارف کروایا گیا تھا جس کو اب دوبارہ فعال کیا گیا ہے، اس ایپ کا مقصد قیدیوں کے لواحقین کی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنانا ہے۔

سیف جیلز پراجیکٹ اور جدید سیکیورٹی اور نگرانی کا نظام

پنجاب میں جیلوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی، جو جیلوں کو سزا کے بجائے اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ یہ ٹاسک فورس جیلوں کی جدید سازی، قیدیوں کی صحت اور تعلیم، اور سیکیورٹی سسٹم کی اپ گریڈیشن پر کام کر رہی ہے۔

سیف جیلز پراجیکٹ جو پنجاب بھر کی جیلوں میں جدید کیمرے، نگرانی کے آلات اور دیگر سیکیورٹی اپ گریڈیشن پر مشتمل ہے۔ اس پراجیکٹ کا پہلا فیز 30 جون 2026 تک مکمل ہو جائے گا، جس میں تمام سینٹرل جیلیں اور ریجنل دفاتر شامل ہیں۔

دوسرا فیز دسمبر 2026 تک مکمل کیا جائے گا، جو ضلعی اور دیگر جیلوں کو کور کرے گا۔ یہ پراجیکٹ جیلوں میں شفافیت، سیکیورٹی اور انسانی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ جیلوں میں بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جاسکے۔

مزید پڑھیں:عمران خان کو جیل میں تمام سہولیات دستیاب ہیں، ترجمان جیل خانہ جات

جیل میں قیدیوں کی تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کا جدید نظام متعارف کروایا گیا ہے، جو پریزن ویب سائٹ اور آن لائن پلیٹ فارم دراز پر دستیاب ہیں۔ یہ مصنوعات جیسے دستکاری، فرنیچر اور دیگر اشیا شامل ہیں، جو قیدیوں کی مہارتوں کو فروغ دیتی ہیں۔

جیل حکام کے مطابق یہ اقدامات قیدیوں کو جیل سے نکلنے کے بعد معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے میں مدد دیں گے، اور جرائم کی شرح کو کم کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘