بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے ملاقات، کیا باتیں ہوئیں؟

منگل 8 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ آج ایک ماہ بعد ملاقات ہوئی ہے جس میں پارٹی امور، قانونی معاملات اور تحریک سے متعلق اہم گفتگو ہوئی۔

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب کسی کو آئسولیٹ کردیا جائے، اخبار نہ دیا جائے اور ملاقات کی اجازت نہ ہو تو کئی امور تشویش کا باعث بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مائنس عمران کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان پر واضح کردیا

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے دوران طویل اور اہم گفتگو ہوئی ہے، مگر اس کی تفصیلات فی الوقت شیئر نہیں کی جاسکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ایک ماہ بعد ملاقات ہوئی ہے جس میں پارٹی امور، قانونی معاملات اور تحریک سے متعلق اہم گفتگو ہوئی۔

اس سے قبل اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر نے کہا کہ ان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ سیاسی جدوجہد میں تمام راستے کھلے رکھنے چاہییں اور کوشش یہ ہے کہ مذاکرات ہوں تو اُن ہی لوگوں سے ہوں جن سے واقعی بات ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کی، بلکہ بانی عمران خان نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے حکومتی مذاکرات کی حالیہ پیشکش کو اس لیے ٹھکرا دیا کیونکہ ان کے مطابق حکومت اگر سنجیدہ ہے تو پہلے کوئی مثبت قدم اٹھائے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں مصافحہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت ہونی چاہیے اور اسپیکر آفس کے ذریعے رابطے کا مشورہ دیا تھا۔ ایک سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰان کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں بن سکا، لیکن ان سے تعلقات منقطع نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر سے پہلے عمران خان کی رہائی کے قریب تھے، مذاکرات میں پیشرفت ہوتی تو بڑا بریک تھرو ہوتا، افسوس کے ساتھ کہ معاملات آگے نہیں چل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو مائنس کیا جارہا ہے، علی امین گنڈاپور ایم پی ایز کو لے کر اڈیالہ کے باہر بیٹھ جائیں، علیمہ خان

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کی کوشش ہے کہ بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فوری رہائی ممکن ہو، کیونکہ وہ 700 دن سے زائد عرصے سے قید میں ہیں۔ اگر رہائی ممکن نہیں تو کم از کم ان سے رسائی دی جائے تاکہ ان سے مشاورت ہوسکے کہ آگے بڑھنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر اہم پیشرفت، آئینی و قانونی مؤقف سامنے آگیا

وزیرِ ریلوے  حنیف عباسی سے  امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

حج کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز تعینات، سعودی عرب میں پاکستانی عازمین کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار سے متجاوز

’قسمت کی خوبی دیکھیے‘: ایورسٹ چوٹی سر کرلینے والے 2 بھارتی کوہ پیما زندہ واپس نہیں آسکے

ایران جنگ پر اختلافات: مارکو روبیو کی نیٹو وزرا سے ملاقات، ڈونلڈ ٹرمپ اسپین اور جرمنی سے شدید ناراض

ویڈیو

منفرد ریٹیل اسٹور جو ایک شاندار لائبریری بھی ہے

اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا، سعد رفیق، حدیقہ کیانی سمیت صاف لوگوں کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، اقرار الحسن

آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات: حکومت نے کن شرائط پر آمادگی ظاہر کی؟

کالم / تجزیہ

نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی