اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا، سعد رفیق، حدیقہ کیانی سمیت صاف لوگوں کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، اقرار الحسن

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عوام راج تحریک کے بانی اقرارالحسن نے سعد رفیق، حدیقہ کیانی، شفقت محمود، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو اپنی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔

وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بانی عوام راج تحریک اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ پارٹی کے منشور پر کام ہو رہا ہے، جلد پارٹی کا منشور آجائے گا۔ 14 اگست کو لاہور یا کراچی میں عوام راج تحریک بڑا جلسہ کرے گی، ہمارے اب تک 4 لاکھ اس کے ممبر بن چکے ہیں۔ میری تحریک شخصیت پرستی کے خلاف ہے، لوگ میری اس تحریک کا حصہ بنیں۔

عوام راج تحریک اپنی ایک انٹیلی جنس بیسڈ اپلیکیشن لے کر آرہی ہے، جس کو ہمارے ممبرز اپنے موبائلز میں انسٹال کریں گے۔ اپلیکیشن کی مدد سے ہم تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا، مجھے بھی لوگ چاہییں۔ میں دعوت دیتا ہوں خواجہ سعد رفیق، شفقت محمود، مصطفیٰ نواز کھوکھر، شہزاد رائے اور حدیقہ کیانی کو کہ وہ میری تحریک کو جوائن کریں۔

اقرار الحسن نے کہا کہ عمران خان اپنے حصے کا کام کرچکے، ان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے۔ عوام ان سے اب توقع نہ لگائیں، وہ اب 75 سال کے ہیں، اگلے جب الیکشن ہوں گے وہ 80 سال کے ہوں گے، تو عوام کیوں 80،82 سال کا وزیر اعظم بنانا چاہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جو کرنا تھا کرلیا ہے، اب آپشن ہم ہیں۔ اگر عمران خان کے ساتھ عوام توقع لگا بیٹھی ہے تو یہ ان کے ساتھ عوام کی زیادتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برابری پارٹی کے جواد احمد کا سوشلزم کا بیانیہ پہلے سے ہی دنیا میں ناکام ہوچکا ہے۔ جن ملکوں نے سوشلزم کا بیانیہ اپنایا، ہم نے انہیں گرتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ائیرپورٹ پر جو واقعہ ہوا تھا اس پر میری اعلیٰ حکام سے بھی بات ہوئی تھی اور میں نے کہا تھا کہ جس شخص نے میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے اس کو نوکری سے نہ نکالا جائے۔ ائیرپورٹ پر کھڑے سرکاری اہلکار نے کہا کہ وہ عمران خان کا سپورٹر ہے۔

اقرار الحسن نے کہا کہ اے آر وائی چینل میں 21 سال کام کیا، وہاں اچھا وقت گزارا۔ مجھے اندازہ تھا کہ کس ایک کو چننا ہو گا، میں نے عوام راج تحریک کو منتخب کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2، 3 تنخواہیں تو مجھے ادارے نے دی ہیں، لیکن میں اب دوبارہ اپنی روزی روٹی کے لیے سوچ رہا ہوں کہ کچن کیسے چلاؤں۔ مجھے ایک 2 چینلز سے آفرز آئی ہیں، میں کوئی نہ کوئی چینل دوبارہ جوائن کروں گا کیونکہ مجھے گھر بھی چلانا ہے۔

انہوں نے کہا ’میری اے آر وائی نیوز میں 50 لاکھ سے زیادہ تنخواہ تھی، اب کوئی چینل کتنی آفر کرتا ہے اس کا میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp