لاہور کی سیشن کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے ساجد نامی بزرگ آدمی کی بازیابی کے لیے درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس سے 15 جولائی کو جواب طلب کرلیا۔
لاہور کی سیشن کورٹ نے آج ساجد نامی بزرگ شخص کی بازیابی کے لیے ان کے بیٹے عمر کی درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنے والد کو 2 دن تک حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے۔ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج غلام فرید نے اس درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 جولائی کو پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار عمر نے اپنی درخواست میں کہا کہ ان کے والد ساجد کو پولیس نے 2 دن قبل گرفتار کیا اور انہیں نہ تو کسی مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
عمر کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے ساتھ پولیس نے بدسلوکی کی اور ان سے معافی کی ویڈیوز بنوا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس کے بعد ساجد کو میڈیا میں ہدف تنقید بنایا گیا۔
وکلاء کا موقف
درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سمیر خان خٹک اور ایڈووکیٹ نعمان سرور ڈوگر پیش ہوئے۔ ان وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، اور درخواست کی کہ عدالت فوری طور پر ساجد کی بازیابی کے احکامات دے۔
عدالت کا حکم
عدالت نے پولیس کو 15 جولائی تک جواب دینے کا حکم دیا اور اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے اگلے دن مقرر کر دی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان کے والد ساجد کو فوراً بازیاب کرانے کا حکم دے۔













