آئندہ دنوں میں شدید بارشوں کا امکان تاہم کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ نہیں، محکمہ موسمیات

جمعہ 25 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، جس سے گلگت بلتستان، چترال، سوات اور شہری علاقوں جیسے اسلام آباد و راولپنڈی شدید متاثر ہو رہے ہیں، محکمہ موسمیات (PMD) نے اس رجحان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ ایک شدید موسمیاتی واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوتی ہے، جو عموماً سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی جہلم میں کلاؤڈ برسٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے نقصان کی تفصیل جاری کردی

نیشنل ویدر فورکاسٹ سینٹر کے ڈائریکٹر محمد عرفان ورک نے سرکاری خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے، تاہم فی الحال کسی فوری کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ نہیں۔

انہوں نے شہریوں، خصوصاً سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کرنے اور دریاؤں کے قریب رہائش پذیر افراد کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

عرفان ورک نے سیلابی پانی کے بہاؤ کو روکنے اور نقصان کم کرنے کے لیے گھروں میں نکاسی آب کے بہتر انتظامات اور کسانوں کو فصلوں کی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی بھی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیں: بروقت اقدامات سے بڑے نقصان سے بچ گئے، مزید کلاؤڈ برسٹس کا اندیشہ ہے، وزیراعظم

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ماہر حیاتیات ڈاکٹر غلام عباس کے مطابق بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت سے فضا میں نمی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو کسی مقام پر اچانک خارج ہوکر طوفانی بارش کا سبب بنتی ہے۔ ان کے مطابق ہنزہ، اسکردو، مری، چترال، اسلام آباد، پشاور اور راولپنڈی آئندہ برسوں میں زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بے قابو شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، غیر متوازن مون سون پیٹرن اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔

یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ بھارت، نیپال، چین اور امریکا جیسے ممالک بھی کلاؤڈ برسٹ کے جان لیوا اثرات کا سامنا کرچکے ہیں۔ 2013 میں بھارت میں اتراکھنڈ میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ میں 5000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ چین کے گانسو صوبے میں 2010 میں 1100 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ دنوں میں کن اہم سیاحتی مقامات میں بارشیں اور سیلاب متوقع ہے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

ماہرین نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ریڈار اور سیٹلائٹ پر مبنی ابتدائی وارننگ سسٹمز، مضبوط ڈرینیج انفراسٹرکچر، جنگلات کی بحالی اور ماحول دوست منصوبہ بندی پر زور دیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو نہ صرف قومی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ عالمی تعاون بھی ناگزیر ہوگیا ہے تاکہ انسانی جانوں، زراعت، اور بنیادی ڈھانچے کو بچایا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘