بھارتی فاسٹ بولر کرانتی گاؤڈ کو سری لنکا کے خلاف ایشیا کپ کے فائنل میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ کردیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق 23 سالہ بھارتی فاسٹ بولر نے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 13 ستمبر کو سری لنکا کے خلاف اے سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ کے فائنل کے دوران آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی لیول ایک کی خلاف ورزی کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: گل فیروزہ پر پھر جرمانہ، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بڑھ گیا، میچ فیس کی 10 فیصد رقم بھی گئی
کرانتی گاؤڈ کو آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا، جس کا تعلق بین الاقوامی میچ میں کسی بیٹر کے آؤٹ ہونے پر ایسے الفاظ، حرکات یا اشاروں کے استعمال سے ہے جو بیٹر کی توہین کریں یا اسے جارحانہ ردعمل پر اکسائیں۔
آئی سی سی نے بھارتی کرکٹر پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کردیا جبکہ ان کے تادیبی ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا۔ موجودہ 24 ماہ کے عرصے میں یہ ان کی پہلی خلاف ورزی ہے۔
واقعہ سری لنکا کی اننگز کے پہلے اوور کی چوتھی گیند پر پیش آیا، جب کرانتی گاؤڈ نے ایمیشا دلانی کو بولڈ کیا اور وکٹ حاصل کرنے کے بعد پویلین کی جانب اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لنکا پریمیئر لیگ سے قبل بڑا ایکشن، میچ فکسنگ کے شبہے میں بھارتی مالک گرفتار
آئی سی سی کے مطابق بھارتی فاسٹ بولر نے اپنی غلطی تسلیم کرلی، جس کے بعد باضابطہ سماعت کی ضرورت نہیں رہی۔
آن فیلڈ امپائرز سلیمہ امتیاز اور شتیرا ذاکر جیسی، تھرڈ امپائر روکیا سلطانہ اور فورتھ امپائر حمیرا فرح نے کرانتی گاؤڈ کے خلاف چارج عائد کیا، جبکہ آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز کی رکن سپریا رانی داس نے سزا تجویز کی، جسے بھارتی کرکٹر نے قبول کرلیا۔
آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی لیول 1 خلاف ورزی پر کم از کم باضابطہ سرزنش، زیادہ سے زیادہ میچ فیس کے 50 فیصد تک جرمانہ اور 2 ڈی میرٹ پوائنٹس تک کی سزا ہوسکتی ہے۔














