بھارت نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کھیلوں کے تعلقات پر مکمل پابندی لگادی

جمعرات 21 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت نے پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے 2 طرفہ روابط پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، دونوں ملکوں کی ٹیمیں صرف کثیرالجہتی ایونٹس میں آمنے سامنے آسکیں گی۔

بھارت کی وزارتِ کھیل نے ایک نئی اور سخت پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کے 2 طرفہ کھیلوں کے روابط نہیں ہوں گے، چاہے وہ دونوں ملکوں کے اندر ہوں یا کسی غیر جانبدار مقام پر، اس کے باوجود بھارتی ٹیم کو ایشیا کپ جیسے کثیرالجہتی ایونٹس میں شرکت کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ مقابلے بین الاقوامی فیڈریشنز کے تحت منعقد ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لیجنڈز لیگ، پاکستان کے خلاف سیمی فائنل، بھارتی کھلاڑی اور میڈیا آپس میں الجھ پڑے

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہے، اس کے تحت بھارتی کھلاڑی پاکستان جا کر کسی سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور نہ ہی پاکستانی کھلاڑی بھارت آ کر کسی 2 طرفہ کھیل میں شریک ہوسکیں گے۔ البتہ اگر بھارت کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے تو پاکستانی ٹیم یا کھلاڑی اس میں شریک ہوسکیں گے۔

بھارت کی نئی پالیس کے مطابق اگر کسی بڑے ایونٹ کی میزبانی پاکستان کے پاس ہوئی تو بھارتی وزارت کھیل اس موقع پر الگ سے فیصلہ کرے گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے معاملات میں بھارت کا رویہ دراصل دونوں ملکوں کے تعلقات کی مجموعی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے اور یہ کہ بھارت اب ایک قابلِ اعتماد میزبان ملک کے طور پر دنیا میں اپنی ساکھ بنا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لیجنڈز لیگ، پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کھیلنے سے بھارت کا انکار، بھارتی میڈیا

دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے تعلقات پر سیاسی کشیدگی طویل عرصے سے سایہ فگن ہے۔ کرکٹ کی دو طرفہ سیریز 2012 کے بعد سے معطل ہیں اور باقی کھیل بھی زیادہ تر عالمی یا ایشیائی ایونٹس تک محدود ہو گئے ہیں۔ کئی مواقع پر بھارتی ٹیموں نے پاکستان جانے سے انکار کیا جبکہ پاکستان نے بھی اپنے کھلاڑیوں کو بھارت بھیجنے سے متعلق محتاط رویہ اپنایا۔ حالیہ برسوں میں اس کشیدگی نے بڑے ایونٹس کے انعقاد کو مشکل بنا دیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے بھی تمام قومی فیڈریشنز کو ہدایت کی تھی کہ بھارت میں کسی کھیل میں شرکت سے پہلے حکومتی مشاورت اور اجازت لازمی ہوگی کیونکہ وہاں سیکیورٹی کے خدشات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’انڈیا کس منہ سے کھیلے گا!‘ شاہد آفریدی کے طنز پر ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا

ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا 14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول ہے۔ اس سے قبل جولائی میں لیجینڈ لیگز کا ایک میچ منسوخ کردیا گیا تھا جب بھارتی کھلاڑیوں نے حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

یوں اس نئی پالیسی کے بعد یہ بات تقریباً واضح ہو گئی ہے کہ مستقبل قریب میں پاک بھارت دو طرفہ کھیلوں کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور دونوں ٹیمیں صرف انہی عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آئیں گی جو کسی بین الاقوامی ادارے کے تحت منعقد کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ