الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) نے کراچی کی خاتون ٹریکر کے گلگت بلتستان میں واقع اسپانٹک چوٹی (7,027 میٹر) سر کرنے کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا جبکہ ٹریکر کا دعویٰ ہے کہ ان کی موبائل فون بیٹری ڈیڈ ہونے کی وجہ سے وہ چوٹی پر تصاویر نہ بنا سکی۔
اے سی پی کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری نے فیس بک پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر سوہنیا مہرین نامی ٹریکر کے دعوے سامنے آنے پر ادارے نے انکوائری کی۔
یہ بھی پڑھیے: تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین ٹریکرز کی تریچ میر ایڈوانس بیس کیمپ تک ٹریکنگ
انہوں نے کہا کہ ہمیں سے کئی لوگوں نے رابطہ کیا، ہم نے خود بھی ٹریکر سے ثبوت مانگا مگر تحقیقات کے بعد یہ واضح ہوا کہ انہوں نے چوٹی سر نہیں کی۔
ایاز شگری نے کہا کہ جھوٹے دعوے پہاڑوں کی تاریخ اور اہمیت کے ساتھ ناانصافی ہیں۔ ہم خواتین کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن جھوٹے دعوے مہم جو برادری کے ساتھ ساتھ ان پہاڑوں کی بھی توہین ہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے مزید بتایا کہ ادارے کی ذمہ داری ہے کہ سمٹ کے دعوؤں کی تصدیق کرے۔ اس کیس میں ہم نے خاتون کو اپنی پوسٹس ڈیلیٹ کرنے اور عوام سے معافی مانگنے کا کہا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔
دوسری جانب سوہنیا مہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس چوٹی پر تصاویر موجود نہیں کیونکہ ان کا فون بیٹری ختم ہونے کے باعث بند ہوگیا تھا، البتہ کچھ تصاویر ایک پورٹر کے پاس ہیں۔ ان کے شیئر کیے گئے مناظر بیس کیمپ 2 اور 3 کے تھے۔














