امریکا کے لندن میں واقع سفارت خانے نے برطانیہ میں اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ برطانوی حکومت نے ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بڑھا کر ‘شدید’ کر دیا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جمعہ کے روز جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری عوامی مقامات پر خاص طور پر چوکنا رہیں اور اسکولوں، گرجا گھروں، سیاحتی مقامات اور ٹرانسپورٹ مراکز سے دور رہیں۔ ہدایت میں یہ بھی کہا گیا کہ شہری اپنے سفر کے اوقات اور راستوں میں تبدیلی کرتے رہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت غیر متوقع رہے اور خطرات کم کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: طالبان کو ایک اور جھٹکا، برطانیہ کے مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے افغان حکومت سے رابطے
برطانوی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو نے بتایا ہے کہ جوائنٹ ٹیررازم اینالسس سینٹر کی سفارش پر خطرے کی سطح کو ‘سب اسٹینشل’ سے بڑھا کر ‘شدید’ کیا گیا ہے، جو انتباہ کی دوسری بلند ترین سطح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے چھ ماہ کے دوران کسی ممکنہ حملے کا امکان بہت زیادہ ہے۔
ایم آئی فائیو کے مطابق برطانیہ میں طویل عرصے سے دہشت گردی کے خطرات میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور حالیہ اضافہ صرف ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ مجموعی صورتحال کا حصہ ہے۔ تاہم ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے تناظر میں یہ خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر یہودی اور اسرائیلی افراد اور اداروں کو نشانہ بنانے کے خدشات کے ساتھ۔
یہ بھی پڑھیے: جرمن چانسلر کی ایران جنگ پر تنقید کے بعد امریکا کا جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان
حالیہ دنوں میں لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی افراد پر چاقو حملہ بھی رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ فِنچلے ریفارم سیناگوگ اور ہارو کے کینٹن یونائیٹڈ سیناگوگ کو بھی حالیہ ہفتوں میں نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سفارت خانے نے اس سے قبل بھی امریکی اور یہودی اداروں کو درپیش خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کیا تھا، اور شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا۔














