اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تخلیق کیے گئے اداکار یا کردار آسکر ایوارڈ کے اہل نہیں ہوں گے۔
نئے قواعد کے مطابق فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز کے لیے صرف وہی اداکار اہل ہوں گے جو حقیقی، زندہ انسان ہوں اور جن کی کارکردگی ان کی رضامندی کے ساتھ اسکرین پر پیش کی گئی ہو۔ اسی طرح اسکرین پلے بھی صرف وہی قابلِ قبول ہوگا جو کسی انسان نے تحریر کیا ہو، نہ کہ کسی چیٹ بوٹ یا مصنوعی ذہانت نے۔
یہ بھی پڑھیے: عدالتوں میں اے آئی کے استعمال کی منظوری، سپریم کورٹ نے قومی گائیڈ لائنز جاری کر دیں
اکیڈمی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اداکاری کے زمرے میں صرف وہی کردار قابلِ غور ہوں گے جو فلم کی قانونی کریڈٹ لسٹ میں درج ہوں اور واضح طور پر انسانی اداکاروں نے اپنی رضامندی کے ساتھ ادا کیے ہوں۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں مرحوم اداکار ویل کلمر کا ایک اے آئی ورژن پیش کیا گیا، جو ان کی وفات کے ایک سال بعد نمائش کے لیے لایا گیا تھا۔ اس ڈیجیٹل ورژن نے ایک نئی فلم کے ٹریلر میں کردار ادا کیا، جس میں وہ نوجوان شکل میں نظر آئے۔
رپورٹس کے مطابق اس پروجیکٹ میں اداکار کے اہل خانہ کی مکمل رضامندی شامل تھی، جنہوں نے ان کی ویڈیو آرکائیوز تک رسائی فراہم کی تاکہ مختلف عمروں میں ان کی ڈیجیٹل تخلیق ممکن بنائی جا سکے۔
فلمی حلقوں میں اس فیصلے کو اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو تحفظ دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔














