قتل کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے راضی نامے کی تصدیق سے سپریم کورٹ کا انکار

منگل 26 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں مقتول کے ورثا اور ملزم کے درمیان ویڈیو لنک کے ذریعے راضی نامے کی تصدیق سے انکار کر دیا۔

آصف علی بنام ریاست کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے یہ تصدیق نہیں ہو سکتی کہ مقتول کے ورثا نے راضی نامہ اپنی مرضی سے کیا یا دباؤ میں آکر۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جب تک مقتول کے ورثا ذاتی حیثیت میں سیشن کورٹ کے روبرو پیش ہوکر راضی نامے کی تصدیق نہ کریں، راضی نامہ مکمل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں 2025 کے نئے رولز باقاعدہ نافذ

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے راضی نامے کی تصدیق کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پورے عدالتی نظام پر سمجھوتہ ہو جائے گا۔

عدالت نے آصف علی بنام ریاست کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp