سیلابی ریلے جنوبی پنجاب میں داخل، صوبے میں 24 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر

منگل 2 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں اب تک 24 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ قریباً 10 لاکھ لوگوں کو ریسکیو ٹیمیں محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں۔ حکام کے مطابق آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں سندھ سے 13 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرنے کا خدشہ ہے۔

دریائے چناب کا بڑا ریلا جنوبی پنجاب میں داخل ہوگیا ہے۔ ہیڈ محمد والا کے قریب پانی قریبی دیہات میں داخل ہونے کے بعد متاثرہ بستیوں کے مکینوں کو کشتیوں اور ریسکیو آپریشن کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔ ملتان میں اکبر فلڈ بند کے نزدیک پولیس نے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیڈ محمد والا روڈ بند کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب کا خطرہ مکمل طور پر ٹل نہیں سکا، پی ڈی ایم اے نے خبردار کردیا

حکام نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے دباؤ میں اضافے کی صورت میں بند پر کٹ لگانے کی نوبت آسکتی ہے، جس کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ میں دوآبہ کے مقام پر سیلابی صورتحال اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور عوام کو بڑے چیلنج کا سامنا ہے تاہم سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔

بہاولنگر میں دریائے ستلج کا پانی چاویکا بہادر کے بند کو توڑ گیا، جس کے باعث متعدد بستیاں زیر آب آگئیں اور مرکزی شاہراہ پر آمدورفت معطل ہو گئی۔ چیچہ وطنی اور جھنگ میں بھی کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ جھنگ کے علاقے پکے والا میں ایک خاتون تیز بہاؤ میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئیں۔

ننکانہ صاحب میں دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا شکوہ ہے کہ اب تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔

اعداد و شمار

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہیں اور تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ صوبے بھر میں 395 ریلیف کیمپ، 392 میڈیکل کیمپ اور 336 ویٹرنری مراکز قائم ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلاب جاری ہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی ہے۔

سندھ کی صورتحال

دوسری جانب سندھ کے کچے کے علاقوں سے لوگ کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ کوٹری بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں سیلابی ریلے سے 78 دیہات ڈوب گئے ہیں، ٹھٹہ میں بھی 100 سے زیادہ مکانات پانی کی نذر ہو چکے ہیں۔ گھوٹکی، سیہون اور نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ کے پانی نے کئی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور حفاظتی پشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد آئندہ دنوں میں 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: تاریخ میں پہلی بار سیلاب متاثرین کی نشاندہی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال

ان کا کہنا تھا کہ اب تک 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر نقصان کے گزر چکا ہے۔

میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ کے مطابق 4 ستمبر کو سندھ میں بڑے ریلے کے داخل ہونے کی توقع ہے تاہم بیراج محفوظ ہیں اور کسی بڑے خطرے کا اندیشہ نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں