ڈی جی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ صوبے میں سیلاب کا خطرہ مکمل طور پر ٹل نہیں سکا۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے چناب کا پانی ہیڈ تریموں سے ملتان کے ہیڈ محمد والا کی طرف رواں ہے اور تریموں ہیڈ ورکس پر کوئی خطرہ موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بدترین سیلابی صورت حال برقرار، مزید بارشوں کا الرٹ جاری کردیا گیا
انہوں نے کہا کہ ہیڈ قادرآباد میں بروقت بریچ کرنے کے مثبت اثرات نچلے اضلاع میں واضح ہو رہے ہیں، خاص طور پر جھنگ میں رواز برج کی گنجائش کم ہونے کے باوجود پانی زیادہ تھا، لیکن بریچنگ سسٹم نے فائدہ پہنچایا۔
عرفان علی کاٹھیا نے مزید بتایا کہ چناب کا پانی کل ملتان پہنچ جائے گا اور ساتھ ہی دریائے روای کا پانی بھی مل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شاہدرہ سے آنے والا سیلابی ریلہ ہیڈ سدھنائی پہنچ چکا ہے، جہاں گنجائش کے قریب پہنچنے کے باعث بریچنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ مائی صفورہ بند کے مقام پر رات کے دوران شگاف ڈالنا پڑے گا اور اس کے تحت مائی صفورہ کے قریب علاقوں سے 20 سے 24 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے واضح کیا کہ ایک ہی وقت میں تین دریاؤں میں سپر فلڈ کی صورتحال برقرار ہے اور جو سخت فیصلے کیے گئے تھے، ان کے ثمرات اب واضح نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: تاریخ میں پہلی بار سیلاب متاثرین کی نشاندہی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال
واضح رہے کہ پنجاب میں معمول سے زیادہ بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث سیلابی صورت حال ہے، اور اب تک 30 سے زیادہ افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ جبکہ حکومت کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔














