بھارتی ریاست کرناٹک کے انتخابات، نریندر مودی کو عبرتناک شکست

ہفتہ 13 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست کرناٹک کے انتخابات میں کانگریس نے ہندو انتہاپسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کو عبرتناک شکست دے دی ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک کی ووٹوں کی گنتی کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کرناٹک میں 136 نشستیں جیت چکی ہے یا اسے برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی کی انتہا پسند جماعت بی جے پی کو 68 سیٹیں جیت چکی ہے یا اسے سبقت حاصل ہے۔ جے ڈی ایس پارٹی نے20 نشستیں جیتی ہیں جبکہ 4 سیٹیں دیگر کے حصے میں آئی ہیں۔

گزشتہ ریاستی انتخابات کی نسبت انڈین نیشنل کانگریس کو 40 نشستیں زیادہ حاصل ہوئی ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی 27 نشستوں کے خسارے میں رہی ہے۔

کرناٹک کی ریاستی اسمبلی 224 ارکان پر مشتمل ہے ، بھارت کے قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کے لیے کسی بھی جماعت کا 113 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔130 نشستیں جیتنے کے بعد اب کرناٹک کا وزیراعلیٰ کانگریس کا ہوگا اور کانگریس بغیر کسی اتحادی جماعت کے ریاستی حکومت بنائے گی۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کرناٹک میں انتخابی فتح کے بعد بیان میں کہا کہ نفرت کا بازار بند ہوگیا اور محبت کی دکان کھل گئی ہے۔یہ کرناٹک کے عوام کی فتح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پر اظہار رنج و غم

آزاد کشمیر: عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ، تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی

الیکشن کمیشن  نے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم ہدایات جاری کردیں

کیا سجاد علی نے بھارتی ریئلٹی شو کو اپنے گانے کی اجازت دی تھی؟ حقیقت سامنے آگئی

پاکستان میں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں