ایف بی آر خفیہ دولت کی تلاش کے لیے کونسے نئے طریقے اپنا رہا ہے؟

پیر 29 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کاروباری طبقے کے انکم ٹیکس گوشواروں کا باریک بینی سے آڈٹ کرے گا تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے ایک لاکھ انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے، جو یکم اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔

پاکستان میں کاروباری طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے بڑی تعداد میں کاروباری افراد ٹیکس نہیں دیتے یا آمدنی چھپا کر کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس دہندگان دستاویزی ثبوت دیے بغیر اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں، ایف بی آر

حکومت اور ایف بی آر بارہا کوششیں کر چکے ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے، لیکن اب بھی ٹیکس دہندگان کی تعداد نہایت کم ہے۔

ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں میں سے جن افراد نے اپنے گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کی ہیں یا دولت چھپائی ہے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

خاص طور پر ان افراد کے گوشواروں کا آڈٹ کیا جائے گا جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس جمع کرایا ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چوری کی ٹھیک اطلاع پر ڈیڑھ کروڑ تک کا اعلان کردیا

ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ونگ قائم کیا ہے جس میں تربیت یافتہ آڈیٹرز شامل ہیں، یہ ماہرین کاروباری طبقے کے گوشواروں کی مکمل جانچ پڑتال کریں گے اور ٹیکس چوری یا کم اثاثے ظاہر کرنے کی نشاندہی کریں گے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جن کاروباری افراد نے درست اور مکمل معلومات کے ساتھ گوشوارے جمع کرائے ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔

تاہم، 30 ستمبر تک درست گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟