اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم آج سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے

ہفتہ 15 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین آج وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

دورے کے دوران اردن کے فرماں روا کی ملاقاتیں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ہوں گی جن میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاہ اردن سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق اردن کے بادشاہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ایوانِ صدر میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد ہوگی جس میں بادشاہ کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز پیش کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین کا یہ دورہ پاکستان اور اردن کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار اور وسعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا