پاکستان کا باسمتی چاول کے جغرافیائی حق پر منصفانہ فیصلے کا مطالبہ

پیر 27 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ باسمتی چاول کے جغرافیائی اشاریے پر منصفانہ اور غیر جانب دار فیصلہ کرے تاکہ پاکستان کے اس معروف اور تاریخی چاول کی عالمی شناخت اور اس پر ملک کے جائز حق کو تسلیم کیا جا سکے۔

یورپی یونین کے وفد سے ملاقات میں وزیر تجارت جام کمال کا کہنا تھا کہ باسمتی پاکستان کی ثقافتی اور زرعی وراثت کا حصہ ہے، جس کے تحفظ کے لیے یورپی فورمز پر منصفانہ رویہ ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 10ویں سیاسی مذاکرات، دو طرفہ اور عالمی امور پر گفتگو

وزیر تجارت کی سربراہی میں پاکستان نے یورپی یونین کے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کو گورننس اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وفد کی قیادت یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے ترقی کے سربراہ لوکاس مینڈل نے کی، جبکہ یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس بھی شریک تھے۔

وزیرِ تجارت جام کمال خان نے بتایا کہ جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت ایتھانول کی برآمدات پر دی گئی ڈیوٹی رعایت ختم ہونے سے پاکستان کے دیہی علاقوں میں روزگار اور کسانوں کی آمدن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ زرعی معیشت پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور لاکھوں خاندانوں کے معاشی استحکام کے لیے دوبارہ غور طلب ہے۔

مزید پڑھیں: یورپی یونین کا پاکستان کے لیے کاروباری ماحول میں اصلاحات کے لیے 20 ملین یوروز کے گرانٹ کا اعلان

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں معاملات پاکستان کی دیہی معیشت اور کسانوں کی زندگیوں سے براہِ راست جڑے ہیں۔

وزیرِ تجارت نے بتایا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 2 سال کے لیے رکن منتخب ہوا ہے اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو عالمی اتحاد برائے قومی انسانی حقوق ادارے کی جانب سے ’اے اسٹیٹس‘ حاصل ہو گیا ہے۔

جام کمال خان نے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے حالیہ قانون سازی، جیسے اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025، صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن، اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تیاری اور بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کا بھی ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: جوہری عدم افزودگی اور تخفیفِ اسلحہ پر پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ بیان

انہوں نے بتایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ توانائی لاگت، ٹیکسوں اور سود کی شرحوں کے چیلنجز پر کام کر رہی ہے اور زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس، ایس ایم ایز، اور ای کامرس جیسے شعبوں میں یورپی سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

جام کمال نے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ مکینزم، کارپوریٹ سسٹین ایبلیٹی ڈیو ڈیلیجنس ڈائریکٹیو اور یورپی جنگلاتی ضوابط جیسے نئے ماحولیاتی معیاروں پر تکنیکی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

وزارتِ تجارت کے حکام نے وفد کو بتایا کہ پاکستان نے میڈرڈ پروٹوکول برائے ٹریڈ مارکس اور مراکش معاہدہ برائے نابینا افراد میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جبکہ پیٹنٹ اور کاپی رائٹس قوانین میں اصلاحات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان سزائے موت کا قانون ختم کرے، یورپی یونین نے یہ مطالبہ کیوں کیا؟

یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں، شفاف گفت و شنید اور انسانی سرمائے کی ترقی پر توجہ کو سراہا اور کہا کہ بات چیت، شفافیت اور شراکت داری یورپی یونین اور پاکستان تعلقات کی بنیاد رہیں گے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے تجارتی، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیومشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟