سعودی عرب 2034 میں ’سب سے دلچسپ ورلڈ کپ‘ منعقد کرنے کے لیے پرعزم

جمعرات 13 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے وزیرِ کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ مملکت 2034 میں فٹبال کے سب سے بڑے عالمی ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ، کی میزبانی کے دوران ’تاریخ کا سب سے دلچسپ ورلڈ کپ‘ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ریاض میں منعقدہ پہلی سیاحت کانفرنس کے دوران ایک پینل میں گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ مملکت میں کھیل، سیاحت اور معیشت کے متنوع شعبوں میں تبدیلی منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا پہلا ’ اسکائی اسٹیڈیم‘: سعودی عرب 2034ء کے فٹبال ورلڈ کپ میں نئی تاریخ رقم کرنے کو تیار

’یہ تبدیلی کسی وقتی منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کی عالمی شناخت کو مضبوط کرنا اور اپنے عوام کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم ایک اکائی کی طرح کام کر رہے ہیں، خواہ وہ کھیلوں کو فروغ دینا ہو، سیاحت کو بڑھانا ہو یا روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں۔

’ہمیں  کی جانب سے یہ پیغام ملا ہے کہ دنیا کا سب سے پرجوش اور یادگار ورلڈ کپ پیش کیا جائےاور یہی ہمارا ہدف ہے۔‘

مزید پڑھیں: نومبر 2025: سعودی عرب میں ثقافت، سیاحت، معیشت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا غیر معمولی مہینہ

شہزادہ عبدالعزیز کے مطابق ورلڈ کپ کی میزبانی صرف ایک تماشہ نہیں، بلکہ اس کا مقصد سعودی عوام اور معیشت کے لیے پائیدار فوائد حاصل کرنا ہے۔

’ایسے عالمی ایونٹس سے سیاحوں کی آمد بڑھتی ہے اور معیشت کو فروغ ملتا ہے لیکن ہم صرف ایونٹس کی میزبانی کے لیے ایسا نہیں کر رہے، بلکہ ایسا ورثہ چھوڑنا چاہتے ہیں جو آنے والی نسلوں پر مثبت اثر ڈالے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ویژن 2030 کے آغاز پر صرف 13 فیصد سعودی شہری ہفتے میں کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے تھے، لیکن اب یہ شرح 59 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو طے شدہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔

’یہی ان ایونٹس کا مقصد ہے، عوامی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا۔‘

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا تاریخی شہر العلا ایک بار پھر کھیلوں کے اہم ایونٹ کی میزبانی کے لیے تیار

گزشتہ ایک دہائی میں سعودی عرب میں کھیلوں کے فیڈریشنز کی تعداد 30 سے بڑھ کر 97 ہو چکی ہے، جسے وزیرِ کھیل نے ’مسلسل پالیسی اور سرمایہ کاری‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

’یہ حوصلہ افزا تبدیلی ہے، لیکن ابھی ہمیں بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے۔‘

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں پیراگلائیڈنگ کا دوبارہ آغاز، کھیلوں کے نئے افق کی جانب قدم

شہزادہ عبدالعزیز نے بتایا کہ 2034 ورلڈ کپ کی تیاری کے سلسلے میں ایک بڑی سعودی ٹیم 2026 میں امریکا، میکسیکو اورکینیڈا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران فنی و انتظامی مشاہدہ کرے گی۔

’ہم ان کے تجربات سے سیکھیں گے، کیونکہ یہ پہلی بار ہوگا کہ 48 ٹیمیں ورلڈ کپ میں حصہ لیں گی، ملک میں اتنا بڑا ایونٹ منعقد کرنا ایک چیلنج ضرور ہے، مگر ہم پہلے بھی اپنی صلاحیت ثابت کر چکے ہیں۔‘

2034 کا فیفا ورلڈ کپ 5 سعودی شہروں میں منعقد ہوگا، اور اندازہ ہے کہ 5 ملین شائقین اس دوران میچ دیکھنے آئیں گے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ کھیل اب سعودی سیاحت کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: کھیلوں کی سیاحت میں فروغ، 2030 تک 100 ارب ریال آمدن متوقع

’جب کوئی ایونٹ دیکھنے آتا ہے تو وہ اردگرد کے مقامات کو بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ بعد میں العُلا، بحیرہ احمر اور جنوبی علاقے عسیر کا بھی رخ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی خوبصورتی یہ ہے کہ آپ سمندر، صحرا، پہاڑ اور وادیاں سب ایک ملک میں دیکھ سکتے ہیں، ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہمارے لوگ ہیں۔

’دنیا بھر سے آنے والے سیاح یہاں کے عوام کی گرمجوشی سے متاثر ہو کر واپس جاتے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کی شاہ غلام قادر سے اہم ملاقات، ناراضی ختم ہونے کا امکان

پمز سانحہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل، وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں