بلتستان کے پہاڑوں کے دامن میں 72 سالہ غلام علی آج بھی روز شام کو اپنے گاؤں کے چند نوجوانوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ کر وہ دھنیں گنگناتے ہیں جو اب تاریخ بن چکی ہیں۔ غلام علی بلتستان کے آخری لوک گائیک ہیں۔ 70 قدیم بلتی گیتوں اور 12 روایتی رقصوں کے واحد حافظ۔
زمانہ بدلا، موسیقی کا ذوق بھی بدل گیا، مگر غلام علی کے لیے یہ صرف نغمے نہیں بلکہ ایک صدیوں پرانی شناخت ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ دھنیں نہ سکھائیں تو یہ نسلوں کی امانت میرے ساتھ مٹی میں دفن ہو جائے گی۔
عمر کے اس حصے میں وہ اکیلے وقت کے دریا کے خلاف تیر رہے ہیں تاکہ بلتی موسیقی کی آخری صدا ہمیشہ کے لیے خاموش نہ ہو جائے۔













