اسلام آباد کے اہم علاقے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پر قائم متنازع منصوبہ ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایک طرف عدالتی فیصلوں، سی ڈی اے کی کارروائیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات زیر بحث ہیں، تو دوسری جانب ایک سینیئر صحافی کے سخت تجزیے نے اشرافیہ، میڈیا اور احتساب کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ منصوبہ 2005 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر منظور کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی نوعیت تبدیل کر کے لگژری اپارٹمنٹس تعمیر کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:گرینڈ حیات اسلام آباد کیس: منصوبے کی خلاف ورزیاں، قانونی کارروائی اور حتمی عدالتی فیصلے
سرکاری ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں کے مطابق منصوبے میں لیز کی شرائط کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور اپارٹمنٹس کی فروخت بھی کی گئی، حالانکہ زمین لیز پر تھی اور اس مقصد کے لیے منظور نہیں تھی۔
ذرائع کے مطابق منصوبے میں سینکڑوں اپارٹمنٹس بنائے گئے، جن میں سے بڑی تعداد فروخت کی گئی جبکہ اربوں روپے کی ادائیگیاں تاحال مکمل نہ ہو سکیں۔ سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے میں بھی مالی واجبات کا ذکر کیا گیا، تاہم مکمل ادائیگی نہ ہونے پر 2023 میں لیز دوبارہ منسوخ کر دی گئی۔
اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے باقی ماندہ درخواستیں خارج کرتے ہوئے کیس کو عملی طور پر بند کر دیا۔

معاملے میں کاروباری شخصیت حفیظ پاشا کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے منصوبے کی قیادت کی اور بعد ازاں اپارٹمنٹس کی فروخت سے بھاری آمدن حاصل کی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سرکاری سطح پر مکمل طور پر سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی الزامات سامنے آئے ہیں کہ منصوبے میں بااثر شخصیات، بیوروکریٹس، سیاستدانوں، ججز اور بعض صحافیوں کی ملکیت یا شمولیت رہی، جبکہ کچھ یونٹس کی ملکیت مبہم یا گمنام ناموں پر ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایک سینیئر صحافی نے اپنے تجزیے میں اس معاملے کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ سرکاری اجازت کے برعکس ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس میں تبدیل کیا گیا اور اربوں روپے کمائے گئے۔ ان کے مطابق تقریباً 260 اپارٹمنٹس تعمیر کیے گئے، جن میں سے صرف محدود یونٹس کی ملکیت واضح ہے جبکہ باقی کے حوالے سے شفافیت پر سوالات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گرینڈ حیات، بی این پی لیز کیس: ڈیفالٹ، واجبات اور قانونی کارروائی کا مکمل پس منظر
سینیئر صحافی نے کہا کہ جب ریاستی اداروں نے کارروائی شروع کی تو بااثر حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور بعض حلقوں کی جانب سے اس کے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سرکاری زمین واپس لے کر قومی خزانے میں شامل کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر احتساب کا عمل جاری نہ رکھا گیا تو ایسے معاملات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں، جبکہ شفافیت اور قانون کی عملداری ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔
دوسری جانب حکومتی اور سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کا مقصد سرکاری زمین کو واگزار کرانا اور اسے عوامی مفاد میں استعمال کرنا ہے۔ حکام کے مطابق غیر قانونی فروخت، معاہدے کی خلاف ورزی اور مالی واجبات کی عدم ادائیگی جیسے معاملات کو قانون کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس پاکستان میں زمین کے استعمال، بڑے ترقیاتی منصوبوں، اشرافیہ کے کردار اور احتساب کے نظام سے متعلق ایک اہم مثال بن چکا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی پالیسی سازی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔














