بھارتی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ایک روز بعد لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے شکست سے دل برداشتہ ہوکر نہ صرف سیاست چھوڑنے بلکہ خاندان سے قطع تعلق کا اعلان کردیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریا نے لکھا:
’میں سیاست چھوڑ رہی ہوں اور خاندان سے بھی خود کو الگ کر رہی ہوں… یہی سنجے یادو اور رمیز نے مجھ سے کہا تھا… اور میں اس کا سارا الزام اپنے سر لے رہی ہوں۔‘
روہنی کے مطابق یہ دباؤ 2 افراد کی جانب سے آیا جنہیں تیجَسوی یادو کے قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ سنجے یادو راجیہ سبھا کے رکن اور آر جے ڈی لیڈر تیجَسوی کے بااعتماد معاون ہیں، جبکہ رمیز اُتر پردیش کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان کے پرانے دوست بتائے جاتے ہیں۔
I’m quitting politics and I’m disowning my family …
This is what Sanjay Yadav and Rameez had asked me to do …nd I’m taking all the blame’s— Rohini Acharya (@RohiniAcharya2) November 15, 2025
روہنی آچاریہ، جو چند سال قبل اپنے والد کو گردہ عطیہ کرنے کے باعث سرخیوں میں رہیں، اس مرتبہ بہار انتخابات میں تیجَسوی کی مہم میں سرگرم تھیں۔ تاہم یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ وہ لالو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کی پارٹی سے بے دخلی پر ناخوش تھیں۔
اہلِ سیاست سے دور رہنے والی اور سنگاپور میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم روہنی کے اس اعلان نے آر جے ڈی کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
جمعہ کو آنے والے نتائج میں آر جے ڈی نے اپنی تاریخ کی دوسری بدترین کارکردگی دکھائی اور صرف 25 نشستوں تک محدود رہی۔
شکست کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں آر جے ڈی نے کہا کہ سیاست میں اُتار چڑھاؤ لازمی ہیں اور جماعت غریبوں کی آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔













